Wed - 2018 مئی 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83596
Published : 17/9/2015 9:16

علاقے کے بحرانوں کے حل کے لئے انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے: جواد ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مشرق وسطی کے بحرانوں کے حل کے لئے تشدد اور انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے-
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بدھ کو بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں اپنے ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اس وقت شام میں مغرب کی غلطی کے نتائج کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، تاکید کی کہ اگر اس بحران کے حل کا عزم موجود ہو تو سب سے پہلے انتہا پسندی اور تشدد کا مقابلہ کرنا چاہئے- ایران کے وزیر خارجہ نے شامی مہاجرین کے مسئلے اور اس بارے میں تہران کے موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے شام کے لئے ایندھن اور غذائی اشیا پر مبنی انسان دوستانہ امداد بھیجنے کا سلسلہ بہت پہلے سے شروع کر رکھا ہے- جواد ظریف نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ شام کے بحران کی فوجی راہ حل نہیں ہے، کہا کہ یہ موقف یمن کے سلسلے میں بھی صادق آتا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یمن میں جب بھی متحارب گروہ کسی سمجھوتے کے قریب پہنچتے ہیں تو منصور ہادی کے قریبی افراد، عوام کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دیتے ہیں- جواد ظریف نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ویانا میں ہونے والے ایٹمی سمجھوتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران، تہران اپنے موقف پر ڈٹا رہا اور جو پابندیاں ملت ایران پر مسلط کی گئی تھیں وہ کارگر ثابت نہ ہو سکیں- ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مذاکرات میں ایسی راہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ جو سب کے مفاد میں ہو، کہا کہ کوئی بھی ایرانی عوام کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا- جواد ظریف نے ایک بار پھر ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں پر تاکید کی اور کہا کہ بین الاقوامی نظام میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی اہمیت اور جگہ نہیں ہے اور ایران نے کبھی بھی اس کے حصول کی نہ تو کوشش کی ہے اور نہ ہی کر رہا ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 مئی 23