Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83601
Published : 17/9/2015 11:45

پاک افغان باہمی تجارتی معاہدوں پر عملدرآمد ملتوی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تجارتی معاہدوں پر عملدرآمد ملتوی کر دیا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے حکام نے کہا ہے ک پاکستان کے ساتھ سرحد پار تجات کا حجم تین گنا کرنے سے متعلق جو معاہدے کئے تھے ان پر عملدرآمد ملتوی کر دیا ہے۔ افغانستان کی وزارت تجارت کے ترجمان مظفر کوقندی نے کہا ہے کہ ان معاہدوں پر دستخط کے بعد مزید کوئی میٹنگ ہوئی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی طرح کی پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ تجارتی معاہدے پاکستان اور افغانستان کے تجارتی تعلقات میں تقویت کی جانب ایک قدم شمار ہوتے تھے۔ ان معاہدوں کے مطابق دونوں ملکوں کے تجارتی حجم کو سنہ دو ہزار سترہ تک ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانا تھا۔ افغان صدر محمد اشرف غنی نے گزشتہ برس اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ چند تجارتی معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ ان معاہدوں میں دونوں ممالک کے درمیان طالبان دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے کا معاہد بھی شامل تھا۔ اس باہمی تعاون کا مقصد اس دہشت گرد گروہ کا مقابلہ کرنا تھا کہ جس کی دو الگ الگ شاخیں پاکستان اور افغانستان میں موجود ہیں اور ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ہر سال ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ مہینے طالبان کے حملوں میں پیدا ہونے والی شدت کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی اور تجارتی معاملات میں اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے تجارتی معاہدوں پر عملدرآمد بھی رک گیا۔ بعض افغان حکام پاکستان پر طالبان کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہیں لیکن پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16