Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83783
Published : 21/9/2015 7:49

پاکستان کے پاس افغانستان کے بارے میں صرف دوآپشن ہیں: اشرف غنی

افغانستان کے صدرمحمد اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس افغانستان کی صورت حال کے تعلق سے دو سے زیادہ آپشن نہیں ہیں یا تو وہ ایک مثبت علاقائی پارٹنرمیں تبدیل ہوجائے گا یا بین الاقوامی تنہائی کا شکارہوجائے گا- اسنا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے طلوع ٹی وی چینل سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ عالمی برادری نے آج افغانستان کے موقف کو تسلیم کر لیا ہے اور پاکستان دنیا کی جانب سے افغان موقف کی حمایت کو نظرانداز نہیں کر سکتا-
صدر اشرف غنی نے کہا کہ انھوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اچھی اور بری دہشت گردی کے درمیان فرق روا نہ رکھے اور پاکستان کے آئین اور دیگر قوانین کی بنیاد پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف سنجیدہ اور کسی امتیاز کے بغیر یکساں کارروائی کرے-
افغان صدر نے کہا کہ وہ افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنے کے بدستور پابند ہیں اور اس عمل کے دو پہلو ہیں جس میں سے ایک پہلو افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن و صلح کا ہے-
انہوں نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ بقول ان کے تیرہ سال سے افغانستان کے خلاف پاکستان کی غیر اعلان شدہ جنگ جاری ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کادوسرا پہلو طالبان اور دیگر حکومت مخالف گروہوں کے ساتھ مذاکرات کا ہے۔صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان دونوں پہلوؤں کے لیے مسلسل کام کی ضرورت ہے- 
افغانستان کے صدر نے مزید کہا کہ ملا عمر کی موت کے بعد طالبان گروہ کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی آرہی ہے تاہم انہوں نے ان تبدیلیوں کے بارے میں کھل کر کوئی بات نہیں کی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15