Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83788
Published : 21/9/2015 8:0

سعودی عرب یمن کے خلاف جنگ میں کیمیاوی اور ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے: یوسف الحاضری

غاصبوں کے جرائم کی دستاویزات سے متعلق نیشنل کمیٹی کے رکن ڈاکٹر یوسف الحاضری نے کہا ہے کہ یمن کے غاصب،مسلسل کیمیاوی اور ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ یمن میں غاصبوں کے جرائم کی دستاویزات سے متعلق نیشنل کمیٹی کے رکن ڈاکٹر یوسف الحاضری نے صوبہ صعدہ پر کیمیاوی اور غیر روایتی ہتھیاروں سے حملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے صرف حالیہ دنوں کے دوران یا صرف ہفتے کے دن باقم کے علاقے پر ہی حملے نہیں کئے بلکہ غاصبوں نے یمن کے خلاف جارحیت کے ابتدائی دنوں میں ہی غیر روایتی ہتھیار استعمال کئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، عام طور پر ان علاقوں پر کیمیاوی اور غیر روایتی ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کرتا ہے جو عالمی برادری کی نظروں سے اوجھل ہیں اور ان علاقوں پر بہت ہی وحشیانہ طریقے سے بمباری کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر یوسف الحاضری کا کہنا تھا کہ یہ حملے لوگوں کے درمیان خوف و ہراس پھیلانے کے مقصد سے کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب سعودی عرب کے حکام یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں علاقے میں عوامی تحریک انصاراللہ کا کوئی کمانڈر موجود ہے تو وہ اس علاقے پر مختلف طرح کے بموں سے شدید بمباری کرتے ہیں۔ ڈاکٹر یوسف الحاضری کا مزید کہنا تھا کہ یمن کے خلاف جنگ میں وہ ہتھیار بھی استعمال کئے جا رہے ہیں جو اس سے قبل دوسری جنگوں میں استعمال ہو چکے ہیں اور وہ ہتھیار بھی، جو اس سے قبل دوسری جنگوں میں استعمال نہیں ہوئے ہیں بلکہ پہلی بار ان کو یمن کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ ایسی حالت میں ہو رہا ہے کہ جب اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے نہ صرف خاموشی اختیار کر رکھی ہے بلکہ وہ سعودی عرب کا ساتھ بھی دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر یوسف الحاضری کا مزید کہنا تھا کہ ہفتے کے دن سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ صنعا کی گنجان آبادی والے علاقوں پر کلسٹر بم گرائے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر یوسف الحاضری کا مزید کہنا تھا کہ تین ہفتے قبل بھی سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ صعدہ پر کیمیاوی ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22