Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84119
Published : 27/9/2015 11:48

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کی امریکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں امریکی ذرائع ابلاغ کے سینیئر صحافیوں سے گفتگو کے دوران علاقائی اور عالمی مسائل کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف بیان کئے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح کو امریکہ کے شہر نیویارک میں اس ملک کے ذرائع ابلاغ کے سینیئر صحافیوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ جس میں صدر مملکت نے علاقائی اور عالمی مسائل کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف بیان کئے اور ان صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیۓ۔ صدر مملکت نے اس نشست کے آغاز میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ گزشتہ برس یہ سوال اٹھایا جاتا تھا کہ کیا مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے یا نہیں؟ لیکن اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا اس معاہدے پر اچھی طرح سے عملدرآمد ہو گا؟ کیا یہ معاہدہ مزید اچھے معاہدوں کا راستہ ہموار کرسکتا ہے؟ اور کیا یہ معاہدہ دوسرے مسائل کے حل کا پیشہ خیمہ ثابت ہوسکتا ہے؟ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس کے بعد گزشتہ برس کی نسبت موجودہ سال خطے میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں عراقی فوج اور عوام کی کامیابیوں کے لئے ابھی بعض اقدامات باقی ہیں جن کا انجام دیا جانا ضروری ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ برس کی نسبت رواں سال کے دوران عراق کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ شام کی صورتحال کے بارے میں صدر مملکت نے کہا کہ شام کے مہاجرین کی وجہ سے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ شام کے بے گھر افراد اس سے قبل شام میں آرام و سکون کے ساتھ اور موجودہ حکومت کے زیر سایہ زندگی گزارتے تھے لیکن دہشت گردوں اور جنگ پسندوں نے ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ یمن کی صورتحال گزشتہ برس کی نسبت زیادہ ابتر ہوئی ہے۔ اس ملک کے لوگوں کو خطے کے بعض ممالک خصوصا سعودی عرب کی فوجی مداخلت اور حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ ناقابل برداشت صورتحال سے دوچار ہیں اور ان کی نجات کی فوری طور پر فکر کی جانی چاہئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا ایران اور شام کے تعلقات کے بارے میں کہنا تھا کہ شام کی حکومت کے ساتھ ایران کے تعلقات رہے ہیں اور رہیں گے اور ہم اس بات کے قائل ہیں کہ مخالفین کو پرسکون ماحول میں اپنے افکار و نظریات بیان کرنے چاہئیں اور آئین میں ضروری ترامیم کی جانی چاہئیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی کا مزید کہنا تھا کہ شام کے بارے میں ایران کے پاس ایک تجویز ہے جس کے بارے میں اس نے دوست ممالک کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ شام کے بحران کا حل تلاش کر لیا جائے گا جس کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا ، بے گھر افراد اپنے ملک واپس لوٹ جائیں گے، مستقبل کے بارے میں شام کی جماعتوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو جائیں گے اور ہم اس سلسلے میں مختلف ممالک کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ جو ممالک بھی شام کے سلسلے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں ان کو آگے بڑھنا چاہئے ۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا ایران اور امریکہ اس بارے میں مذاکرات کریں گے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایٹمی معاہدے پر مکمل عملدرآمد اعتماد کے سلسلے میں ایک بڑی آزمائش ہے۔ امریکہ میں معاہدہ عمدرآمد کا قریب پہنچ چکا ہے اور اسی طرح ایران میں بھی۔ پابندیوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہونا چاہئے تاکہ ایرانی عوام اس بات کو محسوس کریں کہ مذاکرات سود مند تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوسرے موضوعات کے بارے میں مذاکرات کئے جانے کا امکان پایا جاتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17