Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84150
Published : 27/9/2015 19:32

سانحہ منیٰ: دو اہم راستوں کو آل سعود خاندان کی خاطر بند کردیا گیا تھا۔

برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ منیٰ کے دو اہم راستوں کو آل سعود خاندان کے آنے کی وجہ سے بند کردیا گیا تھا۔
اخبار کے مطابق سعودی عرب کی سریع الحرکت فورس کو بھی ایسے واقعات سے نمٹنے کی ضروری تربیت نہیں دی گئی تھی اور منیٰ کے دو اہم راستوں کو شاہی خاندان کی رفت آمد کی خاطر بند کردیا گیا تھا۔ 
اس رپورٹ کے مطابق پچھلے پچیس برس کے دوران حج کے موقع پر رونما ہونے والا یہ بدترین سانحہ ہے۔ اخبار کے مطابق اس سانحے میں ایک ہزار تین سو کے قریب حاجی جاں بحق اور دوہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں لیکن سعودی حکام صرف سات سو سترہ افراد کے مارے جانے کی تصدیق کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سانحہ منیٰ میں جاں بحق ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد ایرانی حاجیوں کی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق اب تک ایک سو چھتیس ایرانی حاجی اس سانحے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
پاکستانی ذرائع نے گیارہ حاجیوں کے جبکہ ہندوستان نے چودہ حاجیوں کے جاں بحق ہونے کی خـبر دی ہے۔تین سو سے زائد پاکستانی حاجی لاپتہ ہیں جنکی تلاش کا کام جاری ہے۔ 
سانحہ منیٰ پر سعودی حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سعودی حکام اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے حجاج کرام کو سانحہ منیٰ کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17