Wed - 2018 Sep 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84157
Published : 28/9/2015 6:24

بشار اسد دہشت گردوں سے برسر پیکار ہیں، روسی صدر

روس کے صدر نے، شام کی قانونی حکومت کی حمایت کو جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ قرار دیا ہے۔ سی بی ایس ٹی وی کے پروگرام سکٹی منٹ میں بات چیت کرتے ہوئے صدر ولادی میر پوتن کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ایک متحدہ محاذ کی تشکیل کا خواہاں ہے۔ 
انہون نے کہا کہ دشت گردی بہت سے ملکوں کے لئے خطرہ بن بنی ہوئی اور سیکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ دہشت گردی سے شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے محاذ پر اپنی کوششوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط بنائیں۔
شام میں روسی فوجوں کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صدر ولادی میر پوتن کا کہنا تھا کہ ان کا ملک صرف شامی حکومت کو اسلحہ و تربیت نیز شامی عوام کو انسان دوستانہ امداد فراہم کر رہا ہے۔ 
انہوں نے مزیدکہا کہ روس سمجھتا ہے کہ شام میں صرف ایک ہی قانونی اور رسمی فوج ہے وہ اس ملک کے صدر بشار اسد کی فوج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ بشار اسد کی فوج در حققیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف برسر پیکار ہے۔ 
روسی صدر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ شام مخالف جنگ پسند ٹولے کو امریکہ کی جانب سے تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔ 
صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ غیر قانونی گروہوں کی فوجی حمایت عالمی ضابطوں اور اقوام متحدہ کے منشور کے سراسر منافی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ روس صرف اور صرف قانونی اداروں کی حمایت کرتا ہے اور ہم نے خطے کے ملکوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔ صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ روس ، داعش کے خلاف جنگ کے لئے منظم فریم ورک کے قیام کا خواہاں ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 26