Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84822
Published : 7/10/2015 18:32

اگر رہبر انقلاب ٹھوس موقف اختیار نہ کرتے تو سعودی حکومت سانحہ منیٰ کو گھڈ مڈ کر دیتی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے رکن نے شیعہ مسلمانوں کے خلاف وہابیت کے تازہ پروپیگنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: موسم حج سے پہلے سعودی عرب کے ٹی وی چینل پر وہابی مفتیوں نے شیعوں اور ایرانیوں کو دھمکیاں دیی تھیں۔ آیت اللہ قربان علی نجف آبادی نے مسجد الحرام اور منیٰ کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو کرین، مسجد الحرام میں گری ہے اس کا وزن ۱۶۰۰ ٹن تھا اور جو طوفانی ہوا چلی ہے وہ زیادہ سے زیادہ ۶۵ کلومیٹر پر گھنٹہ تھی لہذا تعجب کی بات ہے کہ اتنی ہوا سے اتنی بھاری کرین گر جائے انہوں نے سانحہ منیٰ کے بارے میں کہا کہ منیٰ سے رمی جمرات کی طرف جانے والے تین اصلی راستے ہیں جن میں سے ایک میں یہ حادثہ رونما ہوا ہے۔ 
انہوں نے اس واقعہ میں سعودی حکومت کی نااہلی کو بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حادثہ کے واقع ہوتے وقت ہماری امداد رساں ٹیموں کو امداد رسانی کی اجازت دی جاتی تو ان کے پاس اتنے وسائل تھے کہ وہ بہت سارے حاجیوں کی قیمتی جانوں کو بچا سکتی تھیں۔
آیت اللہ نجف آبادی نے سعودی عرب کے اندرونی حالات میں پائی جانے والی رسہ کشی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایک طرف سعودی حکومت یمن میں قتل عام کرنے میں مصروف ہے اور دوسری طرف خود سعودی شہزادوں کے درمیان اندرونی جنگ چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی نااہلی صرف امداد رسانی نہ کرنے پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ انہوں نے جنازوں کی پہچان کرانے اور مجروحین کو منتقل نہ کرنے بھی کافی اصرار کیا اور واقعہ کو حتی المقدور چھپانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک کے شرم آور کارنامے اور مظالم پوری دنیا کے سامنے آشکار ہو گئے ہیں اور اگر رہبر انقلاب کا ٹھوس موقف نہ ہوتا تو سعودی عرب کبھی ہمیں ایرانی شہیدوں کو واپس نہ کرتا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22