Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84850
Published : 8/10/2015 8:25

اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے پرتشدد اقدامات کی مذمت

فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے تشدد آمیز اقدامات میں شدت آنے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اقوام متحدہ نے بھی ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے اقدامات کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں حالیہ دنوں کے دوران صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے گھر تباہ کرنے اور صیہونی کالونیوں میں توسیع سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد میں اضافے کے سوا اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔ بان کی مون نے اس بیان میں تاکید کی ہے کہ حالیہ چند روز کے دوران ہونے والی جھڑپیں کہ جن میں کئی فلسطینی جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں، اس علاقے میں تشدد کے کنٹرول سے باہر ہونے کی تشویش ناک علامت سمجھی جاتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں کے دوران صیہونی حکومت کے تشدد آمیز اقدامات میں اضافے پر کہ جن میں سینکڑوں فلسطینی خاک و خون میں غلطاں اور فلسطینیوں کے درجنوں گھر تباہ ہوئے، اس کے علاوہ دسیوں فلسطینی گھرانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، فلسطینیوں اور رائے عامہ نے شدید احتجاج کیا ہے۔ صیہونی حکومت کے فلسطینیوں کو قتل کرنے کے اقدامات انسانیت کے خلاف جرم اور نسل کشی کا واضح مصداق ہیں اور حالیہ برسوں کے دوران غزہ پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں سمیت اسرائیل کے جرائم اور مظالم میں اضافے نے پوری دنیا کے لوگوں کے دلوں کو چھلنی کر دیا ہے۔ اسرائیل کے جرائم پر ایک نظر ڈال کر یہ اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ صیہونی حکومت نے فلسطینی عوام سے بدترین اور وحشیانہ ترین سلوک روا رکھا ہے اور اس نے فلسطینیوں کے حقوق کو مکمل طور پر پامال کرنے کے راستے پر قدم بڑھائے ہیں۔

صیہونی حکومت کے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ غاصب حکومت اپنے جرائم کو انجام دینے میں کسی حدود و قیود کی قائل نہیں ہے۔ صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھا ہے اور اس نے بین الاقوامی کنونشنوں کی بار بار خلاف ورزی کی ہے جس سے عالمی برادری تنگ اور عاجز آ گئی ہے۔ صیہونی حکومت کے اقدامات کے بارے میں بین الاقوامی اداروں کے مختلف اجلاسوں کا انعقاد اور اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کا صیہونی حکومت کے خلاف قراردادیں، بیانات اور رپورٹیں جاری کرنا اس بات کا عکاس ہے کہ دنیا والوں کا ایک شرپسند اور جارح حکومت سے سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ردعمل نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین اور فلسطینیوں کے حقوق سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لیے صیہونیوں اور ان کے حامیوں کے اقدامات کی ناکامی کو ظاہر کر دیا ہے۔

صیہونی حکومت مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں دہشت گردانہ اقدامات شروع ہونے اور علاقے کی خبروں کا رخ ان کی طرف ہونے کے بعد اس باطل خیال میں گم ہے کہ اب دنیا والوں کی توجہ اس غاصب حکومت کی طرف نہیں ہے۔ لیکن اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی پوزیشن بہتر ہونے کی عالمی حمایت کے نئے دور اور دنیا کے اکثر ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں فلسطینی پرچم لہرائے جانے کی حمایت نیز صیہونی حکومت کے خلاف عالمی مذمت کی لہر، درحقیقت صیہونیوں اوران کے حامیوں کو اس باطل خیال سے باہر نکالنے کے لیے ایک ہلکا سا جھٹکا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی وحشیانہ جنگوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ اس حکومت نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن امریکہ اور بعض مغربی حکومتوں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے اور سلامتی کونسل کے کمزور موقف کی بنا پر اقوام متحدہ کی ان رپورٹوں کا جائزہ نہیں لیا جا سکا اور ان رپورٹوں کی بنیاد پر صیہونی حکومت کے خلاف عملی اقدامات نہیں کیے جا سکے اور یہی دفاعی اور کمزور رویہ اور طرزعمل، صیہونی حکومت کو اپنے جرائم بار بار انجام دینے کے سلسلے میں مزید جری اور گستاخ کرنے کا باعث بنا ہے۔ ایسے حالات میں خود سیکریٹری جنرل سمیت اقوام متحدہ کے حکام کا صیہونی حکومت کے جرائم کی صرف لفظی مذمت کرنے پر اکتفا کرنے کا نتیجہ اس حکومت کے جرائم جاری رہنے کے سوا اور کچھ نہیں نکلے گا۔ رائے عامہ اور ملت فلسطین، صیہونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی جانب سے مذمت کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اقدامات کرنے کے انتظار میں ہے تاکہ وہ ملت فلسطین پر مسلط کیے گئے قبضے اور تشدد کی مخالفت میں حقیقی عالمی عزم و ارادے کا مشاہدہ کریں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24