Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84867
Published : 8/10/2015 19:49

سانحہ منٰی کی تحقیقات کی ضرورت

اسلامی جمہوریہ ایران کے محکمہ حج و زیارت کے سربراہ نے بتایا ہے کہ سانحہ منٰی میں شہید ہونے والے تین سو آٹھ ایرانی حجاج کرام کے جنازے ایران منتقل کئے جاچکے ہیں۔ محکمہ حج و زیارت کے سربراہ سعید اوحدی نے سانحہ منٰی میں شہید ہونے والوں کی شناخت کے عمل کے بارے میں کہا کہ لاپتہ ہونے والے ایرانی حجاج کی تعداد کم ہوکر انتہر ہوگئی ہے اور تمام لاپتہ افراد کی صورتحال کو واضح کرنے کی غرض سے کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی وزارت حج اور وزارت صحت کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ ہونے والے تازہ اجلاس میں جدہ اور مکہ میں کے مردہ خانوں تک ایرانی ٹیم کی رسائی کا راستہ ہموار ہوگیا ہے اور ایرانی ٹیم کے ارکان وہاں پہنچ گئے ہیں۔
ایران کے محکمہ حج و زیارت کے سربراہ نے کہا کہ مکے اور مدینے کے مردہ خانوں میں موجود مزید پچاسی ایرانی حجاج کرام کی لاشوں کی شناخت کی جاچکی ہے۔
سانحہ منٰی کو دوہفتے گزرنے کے بعد جس میں مختلف ملکوں کے ہزاروں حجاج کرام شہید اور زخمی ہوئے ہیں ، سعودی عرب کے وزیر حج بندر بن محمد حجار نے ایران کے محکمہ حج زیارت کے سربراہ سعید اوحدی کے نام پیغام میں سانحہ منٰی پر عالم اسلام اور خاص طور سے اسلامی جمہوریہ ایران کو تعزیت پیش کی ہے۔
سعودی عرب کے وزیر حج نے اس پیغام میں ایران سے اپیل کی ہے وہ تمام ایرانی حجاج کرام کی جنازے منتقل کرنے کے غرض سے ان لوگوں کے نام اور پاسپورٹ کے مندرجہ جات سعودی وزارت حج کو ارسال کریں تاکہ مذکورہ وزارت خانہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ضابطے کی کارروائی مکمل کرسکے۔
ادھر ایران کے اٹارنی جنرل سید ابراہیم رئیسی نے سانحہ منٰی کے حوالے سے شکایات اور دستاویزات کی جمع آوری کے لئے خصوصی شعبے کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی حکام کو پتہ ہونا چاہیے کہ وقت گزرنے کے باوجود سانحہ منٰی کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ہم پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کیس کی پیروی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سعودی حکومت نے شہید ہونے و الے ایرانی حجاج کرام کے حقوق ادا نہ کئے اور اس سانحے کے ذمہ دار یا ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کی تواسلامی جمہوریہ ایران عالمی اداروں میں اس معاملے کو اٹھائے گا۔
حج کے امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے حجت الالسلام قاضی عسکر نے بھی یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ سانحہ منٰی کی تحقیقات کے لئے جلد از جلد ایک کمیٹی کی تشکیل دی جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب، لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرے اور اس کام میں دیگر ملکوں سے بھی مدد لی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں اور حکومتوں کو قابل قبول جواب دے۔
امورحج میں رہبر انقلاب اسلامی کے دفتر کے سربراہ طہ مرقاتی نے بھی کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نامور عالمی وکیلوں کے ذریعے سانحہ منٰی کو عالمی عدالتوں میں لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ سانحہ منٰی کے عینی شاہدین اور زخمیوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بہت سے دستاویز تیار کئے گئے ہیں جنہیں مناسب وقت پر عالمی رائے کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ 
اسی دوران ایران کے ڈپٹی پولیس چیف بریگیڈیئر اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ حالات فراہم ہونے کی صورت میں ایران کی پولیس اور انٹرپول مل کر سانحہ منٰی کی تحقیقات کے لئے تیار ہیں۔
دوسری جانب ایران کے قومی سلامتی اور امورخارجہ کے پارلیمانی کمیشن کے سربراہ علاو الدین بروجردی نے کہا ہے کہ سانحہ منٰی کی تحقیقات کے لئے تمام اسلامی ملکوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اسلامی ملکوں کی پارلیمانوں کے خارجہ تعلقات کے کمشینوں کو خطوط بھی ارسال کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی نے بھی سانحہ منٰی کے اسباب وعلل کا پتہ لگانے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع کردی ہیں، البتہ اس سلسلے میں دیگر اسلامی ملکوں کی پارلیمانوں کا تعاون بھی ضروری ہے۔ 
قابل ذکر ہے کہ چوبیس ستمبر دوہزار پندرہ کو عید الضحی کے دن، سعودی حکام کی بدانتظامی اور لاپرواہی کے نتیجے میں حج کے دوران پیش آنے والے سانحے میں مختلف ملکوں کے ہزاروں حجاج کرام شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق سانحہ منٰی میں اب تک شہید ہونے والے ایرانی حجاج کرام کی تعداد چارسو پیسنٹھ ہوگئی ہے۔ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22