Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 85114
Published : 12/10/2015 9:0

ایران کی پارلیمنٹ نے ایٹمی سجھوتے کی جنرل آوٹ لائن کی منظوری دے دی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے ایٹمی سمجھوتے سے متعلق حکومت کی طرف سے پیش کردہ جنرل آوٹ لائن سنگل ارجنسی بل کی منظوری دے دی ہے

ایران کی مجلس شورائے اسلامی یا پارلیمنٹ کے ارکان نے ایٹمی سجھوتے کے حامی اور مخالف ممبران کے دلائل اور حکومتی نمائندے کی حیثیت سے ایران کی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹرعلی اکبرصالحی جبکہ پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی کی تقریریں سننے کے بعد حکومت کی طرف سے پیش کردہ جنرل آوٹ لائن سنگل ارجنسی بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کے حق میں ایک سو انتالیس اور مخالفت میں ایک سو ووٹ پڑے جبکہ بارہ ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ 

پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹرلاریجانی نے حکومت کی طرف سے ایٹمی سمجھوتے سے متعلق پیش کردہ جنرل ارجنسی بل کی منظوری کے بعد کہا کہ اس بل کی تفصیلات پر منگل کوبحث ہوگی۔ اس بل کی حتمی منظوری کے بعد حکومت اعلی سلامتی کونسل کی منظوری کے تحت رضاکارانہ طور پرایٹمی سمجھوتے کو نافذ کرسکتی ہے۔

ایٹمی سمجھوتے سے متعلق حکومت کی طرف سے پیش کردہ جنرل آوٹ لائن سنگل ارجنسی بل پر بحث کے دوران ایران کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹرعلی اکبرصالحی نے کہاکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان ایرانی عوام کے لئے باعث افتخار کارنامہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی مذاکرات کے ابتدائی لمحات سے ہی ایران کی مذاکراتی ٹیم رہبرانقلاب اسلامی کی ہدایات و رہنمائی پر من و عن عمل کرتی رہی ہے۔
ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ایٹمی صنعت میں سست رفتاری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی اس کاکوئی ایٹمی منصوبہ رکے گا۔ انہوں نے زور دے کہا کہ اراک کا ہیوی واٹر پلانٹ اپنا کام کرتارہے گا ، ایٹمی تحقیقات جاری رہیں گی اور ایران کے اندر یورینیم کی افزودگی  کاعمل بھی جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ سارے پروگرام ہیں جن کو پہلے امریکا ایک لمحے کے لئے بھی برداشت نہیں کرتا تھا ایران کی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ ایٹمی سمجھوتہ تعقل، سائنسی مفاہیم اور پوری دقت و غور وفکر کی بنیاد پر انجام پایا ہے -


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24