Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 85890
Published : 25/10/2015 11:5

بشار اسد کے مستقبل کے بارے میں معاہدے کی تردید

روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے صدر بشار اسد اور شام کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔ روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ماسکو نے شام کے صدر بشار اسد کے مستقبل یا ان کے اقتدار سے ہٹنے کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے اور نہ کرے گا کیونکہ یہ مسئلہ شام کے عوام سے متعلق ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق سرگئی لاوروف نے جمعے کو ویانا میں روس، امریکہ، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر اس اجلاس میں شام کے بارے میں کئے جانے والے فیصلوں کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹوں کو میڈیا کی خیال پردازی قراردیا اور کہا کہ ماسکو نے ویانا اجلاس میں شام کے تعلق سے اپنے موقف پر زور دیا ہے۔ لاوروف نے کہا کہ شام میں حکومت کی تبدیلی بالخصوص بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے سے عراق اور لیبیا جیسے حالات سامنے آئیں گے اور اسی وجہ سے ماسکو کا یہ موقف ہے کہ شام کے مستقبل، شام کے صدر اور شام کی کسی بھی شخصیت کے بارے میں فیصلہ کرنا شام کے عوام کی ذمہ داری ہے کسی اور کی نہیں۔ واضح رہے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے گذشتہ پیر کو ماسکو میں شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات میں کہا تھا ماسکو شام کی قانونی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور شام میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ روس نے کہا ہے کہ شام میں دہشتگردی کے خلاف روس کا تعاون عالمی قوانین اور باہمی معاہدوں کے مطابق ہے۔ ماسکو کے مطابق شام میں اس کی فوجی کاروائیاں دمشق کی درخواست پر انجام پارہی ہیں اور جاری رہیں گی۔ روس، شام کے ساتھ فوجی تعاون کے معاہدوں کی رو سے پچاس لڑاکا طیاروں، کئی فوجی ہیلی کاپٹروں اور متعدد بحری جنگی جہازوں کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کررہا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19