Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 86032
Published : 27/10/2015 10:3

آیت اللہ باقر النمر کی پھانسی کی سزا کی توثیق کے خلاف شدید رد عمل

سعودی عرب کے معروف مذہبی رہنما آیت اللہ شیخ باقرالنمر کی سزائے موت کی توثیق کی خبروں کے بعد اس فیصلے پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید رد عمل سامنے آرہا ہے۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کے باشندوں نے آل سعود کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے شیخ باقرالنمر کو پھانسی دی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے -

سعودی عرب کے معروف عالم دین آیت اللہ شیخ باقرالنمر کے بھائی محمد نمر نے اپنے بھائی کو پھانسی دینے کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے آیت اللہ شیخ باقر النمر کے بھائی نے سعودی عرب کی ہائی کورٹ کی جانب سے اپنے بھائی کی پھانسی کے حکم کی توثیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شیخ باقر النمر کو پھانسی دینے پر وسیع پیمانے پر ردعمل ظاہر ہو گا۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے قطیف کے باشندوں نے عدالت کی جانب سے پھانسی کے فیصلے کی توثیق پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سعودی عرب کے مشرقی علاقے کے عوام کے ساتھ اعلان جنگ کے مترادف ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔

سعودی عرب کے انسانی حقوق اور جمہوریت کے مرکز کے سربراہ علی الیامی نے بھی کہا ہے کہ آیت اللہ باقر النمر کو پھانسی دئے جانے کی صورت میں سعودی عرب میں بدامنی کا دائرہ پھیل جائے گا- انہوں نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ باقر النمر کو پھانسی دینے کی صورت میں سعودی حکام کو عوام کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا- انہوں نے سعودی حکام کو خبردار کیا کہ وہ شیخ باقرالنمر کو پھانسی دینے کے سنگین نتائج بھگتنے کے لئےبھی تیار رہیں -

سعودی عرب کے انسانی حقوق کے مرکز کے سربراہ نے سعودی مفتیوں اور داعش کے طریقہ کار میں پائی جانےوالی مماثلت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہ داعش کے ساتھ سعودی عرب کے وہابی مفتیوں کے وسیع تعلقات اور ہم آہنگی کے پیش نظر سعودی وہابی مفتی بھی داعش کی ہی طرح اپنے ناقدین کوپھانسی پر لٹکادینے کی سوچتے ہیں - انہوں نے کہا کہ چونکہ سعودی عرب کی حکومت کو اس وقت ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر شدید مشکلات کا سامنا ہے اس لئے اگر اس نے ملک کے اندر عوام پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو ملک کے لئے مزید مشکلات پیدا کرے گی -

اس درمیان اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے کہا کہ اگر سعودی حکومت نے ممتاز مذہبی رہنما شیخ باقر النمر کو پھانسی دی تو سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں ایک نیا بحران پیدا ہوجائے گا - علاء الدین بروجردی نے سعودی عدالتوں کی طرف سےآیت اللہ شیخ باقر النمر کی سزائے موت کی توثیق کی خبر پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت نےاپنی رائے عامہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے اس وقت ایسا فیصلہ کیا ہے - انہوں نے کہا کہ اگر سعودی حکومت نے آیت اللہ شیخ باقرالنمر کو پھانسی دینے کی غلطی کی اور علما کی بے احترامی کی کوشش کی تو سعودی عرب کے اکثریتی شیعہ آبادی والے علاقے میں سخت بحران پیدا ہوجائےگا جو سعودی حکومت کے مفاد میں نہیں ہوگا -

واضح رہے کہ سعودی عرب کی اعلی عدالت نے اتوار کو ممتاز عالم دین شیخ باقر النمر کی سزائے موت کی توثیق کرتے ہوئے فیصلہ وزارت داخلہ اور شاہی دیوان کے پاس بھیج دیا ہے۔

  سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکاروں نے آیت اللہ شیخ باقر النمر پر جولائی دو ہزار بارہ میں قاتلانہ حملہ کیا تھا اور پھر زخمی حالت میں انہیں گرفتار کرلیا جس کے بعد ریاض کی ایک عدالت نے گذشتہ برس انہیں ملک میں امن و سلامتی کی صورتحال خراب کرنے اور لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسانے جیسے بے بنیاد الزامات کے تحت پھانسی کی ‎سزا سنائی تھی - آیت اللہ شیخ باقر النمر سعودی عرب کے عوام خاص طور پر شیعوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے انتہائی سرگرم رہے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19