Saturday - 2018 مئی 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 86254
Published : 31/10/2015 8:11

آل سعود کے اندر اقتدارکی جنگ تیز ہوگئی

آل سعود کے اندر اقتدارکی جنگ تیز ہوگئی ہے-

المنار ٹیلی ویژن نے خبردی ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن نایف اور سعودی ولیعہد کے جانشین محمد بن سلمان کے درمیان اقتدار کی جنگ بہت ہی شدت اختیار کرگئی ہے-

المنار نے مختلف عرب ذرائع کے حوالے سے خبرد ی ہے کہ اگرچہ یہ اختلافات ابھی کھل کر باہر نہیں آئے ہیں لیکن ان اختلافات کی وجہ سے خود سعودی عرب کے اندر انتہائی تشویشناک پالیسیاں اختیارکی جارہی ہیں -

سعودی عرب کے امور سے متعلق ماہرین کا کہناہے کہ سعودی ولیعہد اور ولیعہد کے جانشین کے درمیان اختلافات اس وقت شدت اختیارکرگئے جب گذشتہ اپریل میں سیکورٹی کے امور سے متعلق اہم عہدے پرفائز شہزادہ مقرن بن عبدالعزیزکو اچانک ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا -

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ برطرفی ایک قسم کی بغاوت ہے جو شاہی خاندان کے ایک خاص دھڑے کو اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کا موقع فراہم کرے گی- یہ بھی کہا جارہاہے کہ یمن کی جنگ کو لے کر محمد بن نایف پر شدید تنقید ہورہی ہے اور شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان اپنی پوزیشن محمد بن نایف کے مقابلے میں بہت تیزی سے مستحکم بنارہے ہیں اور وہ یہ ظاہرکرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ملک کے ولیعہد، محمد بن نایف نہیں بلکہ وہ خود ہیں -

ماہرین کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان کو تشویش ہے کہ اگر محمد بن نایف آئندہ ملک کے بادشاہ بن گئے تو ان کی پوزیشن بہت کمزور ہوجائے گی -

دو سری طرف مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر محمد بن نایف کو ولیعہدی کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تو سعودی عرب کے موجودہ حکام کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا - کیونکہ مغربی ممالک ان پر بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور خود آل سعودخاندان میں بھی ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں ہے جو محمد بن نایف کو ہی مستقبل میں سعودی عرب کا بادشاہ دیکھنا چاہتے ہیں - 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 مئی 26