Wed - 2018 Oct. 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 86343
Published : 31/10/2015 17:35

ویانا میں شام کے بحران کے جائزے سے متعلق اجلاس کا اختتام

ویانا میں شام کے بارے میں بین الاقوامی اجلاس جمعے کی شام ختم ہوگیا۔

اجلاس کے اختتام پر وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ شام کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق صرف اس ملک کے عوام کو حاصل ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بھی اعلان کیا ہے کہ شام کے صدر بشار اسد اقتدار میں رہیں یا نہ رہیں اس کا فیصلہ شام کے عوام کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جمعے کو ویانا میں شام کے بارے میں منعقدہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ایران کی جانب سے پیش کئے گئےنکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اصلی فریق شام کے عوام ہیں اور ویانا کا اجلاس بھی جلد از جلد شام کے بحران کا حل تلاش کرنے کے لئے منعقد ہوا ۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ شام کے مستقبل کے بارے میں شام کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا اور ویانا کا اجلاس اس لئے نہیں منعقد ہوا ہےکہ یہ معین کیا جائے کہ شام کا حکمراں کون ہوگا۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ویانا اجلاس میں بعض لوگوں نے بشار اسد کے اقتدار سے ہٹنے کا اپنا نظریہ پیش کرنا شروع کردیا تھا لیکن ایران نے صراحت کے ساتھ یہ اعلان کردیا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا شام کے عوام کا کام ہے۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ویانا اجلاس کے اختتامی بیان کے بارے میں کہا کہ اس بیان میں اعتدال پسند نظریات دیکھنے کو ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں بعض نہایت اہم نکات بھی ہیں جن میں سے ایک یہ ہےکہ شام کی سیاسی راہ حل شام کے عوام اور سیاسی گروہوں کی جانب سے پیش کی جائے گی ۔


دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے شام کے بارے میں ویانا اتفاق رائے کو مستقبل کے مذاکرات کی بنیاد قرار دیا ہے۔ جمعے کو اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ اجلاس کے شرکا کے نظریات میں کافی فاصلے پائے جاتے ہیں اور بعض ممالک آخر تک اس بات کی کوشش کر تے رہے کہ اس بیان میں اس بات کا اعلان کیا جائے کہ بشار اسد کب اور کس طرح اقتدار سے علیحدہ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک نے شام کے تناظر میں خطے کے بارے میں اپنے سیاسی نظریات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن ایران نے اپنے معقول نظریئے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا۔


انہوں نے اجلاس کے نتائج کے بارے میں کہا کہ آخر کار اجلاس کے شرکا نو شقوں پر مشتمل ایک بیان پر متفق ہوگئے اور ایران نے اس بات کی پوری کوشش کی کہ تقریبا تمام شقوں میں اس کے پیش نظر باتوں کو درج کیا جائے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اس بیان میں شام کے اقتدار اعلی، خودمختاری، ارضی سالمیت اور قومی یکجہتی پر زور دیا گیا اور اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کوئی شام کی تقسیم کا خواہاں نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شام کے بحران کا جائزہ لینے کے لئے ویانا میں جمعے کو بین الاقوامی اجلاس ہوا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران سمیت سترہ ملکوں کے وزرا ئے خارجہ اور اقوام متحدہ نیز یورپی یونین کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاو روف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ صدر بشار اسد کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ شام کے عوام ہی کرسکتے ہیں۔ ویانا میں اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب میں سرگئی لاؤروف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد پرہمارے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے اور ہمیں داعش کے خلاف پوری قوت سے جنگ کرنی ہے۔ انھوں نے شام کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بشا ر اسد کے بارے میں صرف شام کے عوام ہی فیصلہ کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے بحران شام کے حل کے لئے سفارتی کوششیں بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار اسد کے تعلق سے روس اور ایران سے ان کا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود سفارتی راہ حل کے حصول کے لئے ان دونوں ملکوں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی مکمل نابودی تک وہ اقتدار میں باقی رہیں گے۔ الدیار آن لائن کے مطابق صدر بشار اسد نے اقتدار سے ہٹنے کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اقتدار سے نہیں ہٹیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ رہ جائیں تب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

صدر بشار اسد نے کہا کہ میں اپنی بندوق اٹھا کر آخری لمحے تک اپنے ملک اور نظام کا دفاع کروں گا - انھوں نے کہا کہ میں دہشتگردوں اور تکفیریوں کے لئے اقتدار نہیں چھوڑوں گا اور انہیں شام پر حکومت کرنے کا موقع نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کےبعد وہ پارلیمانی انتخابات کرائیں گے اور صدارتی انتخابات کے بارے میں عوام کی رائے معلوم کریں گے۔ صدر بشار اسد نے ان ملکوں کا جو شام کی حمایت کررہے ہیں، بالخصوص روس، ایران اور حزب اللہ کا شکریہ ادا کیا۔

اسی کے ساتھ شام کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی کہا ہے کہ ان کے ملک میں انتخابات کا انحصار دہشت گردی کی نابودی پر ہے۔ شام کے رکن پارلیمنٹ خلیل مشہدی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شام کے عوام ایسے ہر بیرونی منصوبے کے مخالف ہیں جو ملک کے اقتدار اعلی کے منافی ہو، کہا کہ اس وقت بحران شام کے سیاسی راہ حل کا جائزہ ہی ممکن ہے ۔انھوں نے کہا کہ بشار اسد شام کے قانونی صدر ہیں اور اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق صرف عوام کو حاصل ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 17