Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87029
Published : 10/11/2015 19:6

یمن کے بحران کا پرامن سیاسی حل ضروری ہے: بیلجیئم

بلجیئم کے وزیر خارجہ نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں یمن کے بحران کے پر امن سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یمن کے ساتھ ہی شام کے بحران کا بھی کوئی فوجی حل نہیں ہے ۔ انھوں نے اسی کے ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف سنجیدگی کے ساتھ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 

بلجئم کے وزیر خارجہ "ڈیڈیئر رنڈرز" نے پیر کو تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یمن کے تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یمن کا بحران صرف مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ 

بلجئم کے وزیر خارجہ نے یمن پر سعودی جارحیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پہلے جنگ بندی ہونی چاہئے اس کے بعد یمن کے سبھی سیاستدانوں کے درمیان مذاکرات شروع کرانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یمن کا بحران فوجی اقدامات کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔ 

قابل ذکر ہے کہ سعودی حکومت نے چھبیس مارچ سے یمن پر وحشیانہ حملوں کا آغاز کیا ہے جس میں اب تک سات ہزار ایک سو سے زائد بے گناہ شہری شہید اور چودہ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ 

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف بین الاقوامی ادارے ، اس جارحیت کے نتیجے میں یمن میں انسانی المیہ رونما ہونے کی بابت خبردار کرتے ہوئے جنگ بندی کی اپیلیں کرچکے ہیں لیکن سعودی حکومت نے ساری اپیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ 

اس پریس کانفرنس سے خطاب میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یمن پر سعودی جارحیت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حملے فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ملکوں کے تنازعات بیرونی مداخلت کے بغیر مذاکرات کے ذریعے پر امن طور پر حل کئے جائیں۔ 

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اسی کے ساتھ مطالبہ کیا کہ عالمی برادری دہشت کے تعلق سے اپنے فرائض پر عمل کرے۔ انھوں نے اس پریس کانفرنس میں شام کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ شام میں قیام امن اور استحکام کے لئے کام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ علاقے کی بعض حکومتوں کے برعکس جو فوجی اقدامات پر یقین رکھتی ہیں، ایران سمجھتا ہے کہ شام کا بحران صرف سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ 

انھوں نے بعض حکومتوں کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کرنی چاہئے ۔ وزیر خارجہ محمدجواد ظریف نے اسی کے ساتھ شام کے تعلق سے ایران کے اس دیرینہ موقف کو دہرایا کہ شام کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار صرف شام کے عوام کو ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ ملکوں کے عوام کو یہ حق دیا جائے کہ اپنی تقدیر کا فیصلہ وہ خود کریں اور دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کئے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردگروہوں کو مالی وسائل تک دسترسی کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ دہشت گردوں کی مالی حمایت کون کرتا ہے؟ کون سے ممالک ہیں جو ان کا تیل بیچتے ہیں اور دہشت گردوں کے معاملات کن بینکوں کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس خطے اور خطے سے باہر کے سبھی ممالک سمجھ چکے ہیں کہ داعش عالمی امن کے لئے خطرہ ہے لیکن بعض حکومتیں اب بھی داعش کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23