Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87131
Published : 11/11/2015 18:18

ایران اور شام کی جانب سے سعودی عرب کی مذمت

ایران اور شام نے اقوام متحدہ میں ایران اور روس کے خلاف قرار داد کی منظوری کی غرض سے سعودی عرب کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران اور روس، شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اعتدال پسند شامی مخالفین پر حملے کر رہے ہیں۔ قطر اور امریکہ سمیت بعض ممالک نے اس قرارداد کی حمایت کی ہے۔ 
اقوام متحدہ میں ایران اور شام کے نمائندوں نے اس قرارداد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کو انسانی حقوق کے بارے میں بولنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ 
یہ ایسی حالت میں ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک، اندرون اور بیرون ملک انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث سعودی عرب کی مذمت کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر چھبیس مارچ سے یمن پر جارحیت کا آغاز کیا جس کا مقصد ریاض کے حمایت یافتہ مفرور سابق صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانا اور عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ کو حکومت میں آنے سے روکنا ہے۔ 
سعودی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں اور بہت سے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، یمن میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں نے شام میں سن دو ہزار گیارہ سے قتل و غارتگری کا بازار گرم کر رکھا ہے جس کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور کئی ملین لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ 
اس کے برخلاف ایران اور روس شروع ہی سے بحران شام کو سیاسی اور سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر تے چلے آئے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے حکومت دمشق کی درخواست پر اپنے فوجی مشیر شام ضرور بھیجے ہیں لیکن اس ملک میں کبھی فوجی مداخلت نہیں کی۔ روس نے بھی تیس ستمبر سے شامی حکومت کی درخواست پر داعش سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کے خلاف کامیاب فضائی حملے شروع کیے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے حامی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15