Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87138
Published : 11/11/2015 18:47

داعش کے خلاف نام نہاد عالمی اتحاد شدید تنقید کی زد میں

عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری میں ٹھوس عزم دکھائی نہیں دیتا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی ہر جگہ سر اٹھا رہی ہے اور کسی خاص خطے تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نےکسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک آج خود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا شکار ہیں۔ ان کا اشارہ ، امریکہ، سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے امریکی اتحادیوں کی طرف تھا جنہوں نے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب بھی ان گروہوں کی مالی اور اسلحہ جاتی حمایت کر رہے ہیں۔ 

عراق کے وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے ملک کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی مشکلات کے باوجود عراق، دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔ 

دوسری جا نب عراق کی تحریک مزاحمت اسلامی کے سیکریٹری نے بھی امریکہ کی قیادت میں قائم داعش مخالف اتحاد کے ہوائی حملوں کو محض دکھاوا قرار دیا ہے۔ عراق کی تحریک مزاحمت اسلامی کے سیکریٹری اور عوامی رضاکار فورس کے ایک کمانڈر شیخ اکرم الکعبی نے کہا کہ داعش کے خلاف فضائی حملوں کے دعووں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور امریکہ کی قیادت والے داعش مخالف اتحاد کے جنگی طیارے عراق میں غیر حقیقی اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ نام نہاد عالمی اتحاد نے اپنے قیام سے لے کر آج تک داعش کو ختم کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا بلکہ وہ داعش کی مدد کرکے اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

درایں اثنا عراقی فوج کے ایک سابق کمانڈر جنرل عبدالکریم خلف نے حکومت عراق سے اپیل کی ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ پر بھروسہ نہ کرے کیونکہ امریکہ داعش کو کبھی ختم نہیں ہونے دے گا۔ حالیہ چند روز کے دوران عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کے کردار پر کی جانے والی نکتہ چینی میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکی قیادت والے داعش مخالف اتحاد پر تنقید صرف عراقی حکام ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ شامی عہدیدار بھی کئی بار باضابطہ طور پر اس اتحاد کے نمائشی اقدامات پر ردعمل ظاہر کر چکے ہیں۔ شام کی وزارت خارجہ نے کچھ روز قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے نام الگ الگ مراسلوں میں داعش مخالف اتحاد کے حملوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اتحاد کے جنگی طیارے داعش کے بجائے شام کی بنیادی تنصیابات کو تباہ برباد کر رہے ہیں۔ 

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم بھی کہہ چکے ہیں داعش مخالف اتحاد اس ملک کی بنیادی تنصیاب کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش مخالف اتحاد حکومت شام کی اطلاع اور ہماہنگی کے بغیر حملے کر رہا ہے جو اقوام متحدہ کے منشور اورعالمی ضابطوں کے سراسر منافی ہے۔ 

شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ داعش مخالف نام نہاد عالم اتحاد شام کی بنیادی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے اور حلب میں دو تھرمل بجلی گھروں پر حملہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش مخالف عالمی اتحاد کے اس اقدام کا مقصد شام کے بنیادی اقتصادی، صنعتی اور خدماتی ڈھانچے کو نابود اور ملک کی ترقی اور تعمیرنو کے راستے میں مشکلات کھڑی کرنا ہے۔ 

داعش کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے امریکہ اور مغربی ممالک پچھلے ڈیڑھ برس سے داعش مخالف اتحاد کے نام پر شام اور عراق میں بنیادی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24