Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87166
Published : 12/11/2015 17:57

ایران ایٹمی معاہدے پر اسی وقت عمل کرے گا جب مغربی ممالک بھی اس پر عمل کریں گے: صدرمملکت

اسلامی جمہور یہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر ایران اسی وقت عمل کرے گا جب مغربی ممالک بھی اس پر عمل کریں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اپنے دورہ فرانس سے قبل فرانس کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران ایٹمی معاہدے پر عمل کرنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ معاہدے کے مقابل فریق بھی اس پر پوری طرح عمل کریں- 
انہوں نے کہا کہ ایران ایک عرصے سے این پی ٹی کی پابندی کرتا آیا ہے اور ہم نے اس معاہدے کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کیا ہے - انہوں نے ا یک بار پھر زور دے کر کہا کہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کرے گا البتہ ہم ہمیشہ پرامن مقاصد کے لئے اپنے ایٹمی حقوق پر زور دیتے رہے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہماری ایٹمی تنصیبات کے بار بار کے معا‏ئنوں سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کبھی بھی کسی قسم کا انحراف نہیں پایا گیا۔ صدر ڈاکٹر روحانی نے ایران کے خلاف مغربی ملکوں کی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے یورپی یونین کو بھی فائدہ پہنچے گا اورعالمی امن و صلح میں بھی استحکام آئے گا۔انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے سب کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے روز اول سے کہا تھا کہ یہ پابندیاں غیر منصفانہ ہیں اور آج بھی ہم انہیں غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔
صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے فلسطین کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو ان کے وطن واپس لوٹنے دیا جائے اور وہاں سبھی فلسطینیوں کی شرکت سے ایک ریفرنڈم کرایا جائے۔
صدر حسن روحانی نے فلسطین میں دو حکومتوں کے قیام کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انیس سو اڑتالیس سے پہلے اس سرزمین پر صرف ایک ملک تھا اور اب بھی ہمارا یہی موقف ہے کہ وہاں صرف ایک ملک فلسطینوں کا ہونا چاہئے۔ جس میں فلسطین کے سبھی لوگ شامل ہوں اور سبھی فلسطینی پناہ گزینوں کو وطن واپس لوٹنے دیا جائے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے شام کے بارے میں کہا کہ شام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق صرف شام کے عوام کو ہے اور اس ملک میں امن اسی صورت میں قائم ہو گا جب عوام کو براہ راست طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔
صدر مملکت نے شام میں دہشت گردانہ اقدامات اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے بارے میں کہا کہ اگر شام میں ایک مقتدر حکومت نہ ہو گی تو دہشت گـردوں کا بھی مقابلہ نہیں کیا جاسکے گا دنیا میں کون سا ملک ہے جہاں ایک مقتدر حکومت نہ ہو لیکن وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرتی ہو۔ اس لئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے شام کی حکومت کا ہاتھ مضبوط کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں شام میں ہرچیز سے پہلے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا پہلے دہشت گردوں کو شام سے نکالنا ہو گا اور یہی ہم سب کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے شام کے صدر بشاراسد کے بار ےمیں مغربی ملکوں کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ دیگر ملکوں کے داخلی معاملات یا وہاں کے انتخابی امیدوار کے بارے میں اپنا نظریہ مسلط کرے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کااختیار شام کے عوام کو ہی دینا ہو گا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24