Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87167
Published : 12/11/2015 17:59

مشرق وسطی کے بحرانوں کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے: ایرانی وزیر خارجہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطی کے بحرانوں کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر ایک بار پھر تاکید کی ہے۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جمعرات کو اپنے دورہ قم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مشرق وسطی کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بحران شام سمیت مشرق وسطی کے تمام بحرانوں کی بنیادی وجہ بیرونی مداخلت ہے جو بند ہونی چاہئے۔ 
انھوں نے اسی کے ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی کےتعلق سے دوہرے معیاروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض طاقتوں کے دوہرے معیارات کی وجہ سے ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اتنی وسعت آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس خطے کے ملکوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا حق صرف ان ملکوں کے عوام کو ہی حاصل ہے۔
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ اس خطے کے ملکوں کے بارے میں بیرونی طاقتیں فیصلہ نہیں کرسکتیں۔ انھوں نے سانحہ منی کی پیروی کے بارے میں کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ نے اس سانحے کے حقائق سامنے لانے اور مستقبل میں اس قسم کے حوادث کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات شروع کر دیئے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے سانحہ منی میں لاپتہ ہونے والوں کا پتہ لگانے اور اس سانحے میں شہید ہونے والوں اور ان کے پسماندگان کے حقوق کے حصول کے لئے ضروری کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ قم اور بزرگ علمائے دین اور مراجع کرام سے ملاقات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالم اسلام تکفیری دہشت گردی اور انتہا پسندی کے سخت ترین خطرات سے دوچار ہے اور قم دینی علوم کے عالمی مرکز اور اسلامی دنیا کے علمی و ثقافتی دارالحکومت کے عنوان سے ان خطرات سے نمٹنے میں کافی مدد اور تعاون کر سکتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20