Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87360
Published : 15/11/2015 17:59

پیرس دہشت گردانہ حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ان ہولناک دہشت گردانہ حملوں میں انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے فرانس کی حکومت اور عوام کو تعزیت پیش کی ہے پیرس میں جمعے کے رات کے دہشت گردانہ حملوں میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ فرانس کے صدر فرانسوا اولینڈ نے ان حملوں کے بعد پورے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے ۔ حکومت فرانس نے اسی کے ساتھ شنگن ویزا منسوخ کردیا ہے۔
فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے پیرس حملوں پر اپنا پہلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف ہماری جنگ انتہائی شدید اور بے رحمانہ ہوگی۔ انہوں نے گروپ بیس کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے اپنا دورہ ترکی بھی ملتوی کردیا ہے۔ فرانس کے صدر نے اپنے ایک حکم کے ذریعے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بعض مقامات بند اور بہت سے علاقوں میں رفت آمد محدود رہے گی۔ فرانس میں ایمرجنسی کا نفاذ انیس سو پچانوے کے قانون کے تحت عمل لایا گیا ہے اور اس کی مدت بارہ روز ہوگی۔ صدر فرانسوا اولاند کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے حکم کے تحت ساڑھے پانچ ہزار سیکورٹی اہلکاروں کو دارالحکومت پیرس میں تعینات کیا جائے گی۔
دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد فرانس کے صدر نے وزیراعظم ، وزیر دفاع اور دیگر اعلی سیکورٹی حکام کو ایلیزا پیلس میں طلب کرکے فوری طور پر ایک دفاعی کونسل بھی تشکیل دی ہے۔حکومت فرانس نے شنگین معاہدے کو بھی عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔ اس اقدام کے بعد شنگن معاہدے کے تحت فرانس میں داخل ہونے والے غیر ملکی شہری بغیر ویزہ حاصل کیے فرانس میں نہیں آسکیں گے۔
پیرس کے مختلف علاقوں میں فائرنگ ، ایک اسٹیڈیم کے قریب ہونے والے دھماکے اور باتا کالان نامی علاقے میں ایک کنسرٹ ہال میں یرغمال بنائے جانے کے واقعے میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق باتاکالان کسنرٹ ہال میں چند دہشت گرد داخل ہوئے جنہوں نے سیاہ لباس پہن رکھے تھے اور دس منٹ تک چیختے چلاتے اور فائرنگ کرتے رہے جس کے نتیجے میں سو افراد ہلاک ہوگئے۔
خبروں میں کہا جارہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش نے اپنے ٹوئٹ پیج پر "پیرس آگ میں" جیسی عبارت لکھی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ، اس گروہ نے پیرس کے خونی واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دنیا کے بیشتر ملکوں اور عالمی رہنماؤں نے پیرس میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کیا ہے۔ امریکی صدر براک اوباما ، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، جرمن چانسل اینجلا مرکل ، روس کے صدر ولادی میر پوتن، اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے پیرس دہشت گردانہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21