Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87364
Published : 15/11/2015 18:9

جنوبی یمن کے متعدد علاقے دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد

یمن کی فوج نے عوامی رضاکاروں کی مدد سے ملک کے متعدد جنوبی علاقوں کو آزاد کرالیا ہے۔
یمنی ذرائع کے مطابق صوبہ لحج کے نواحی علاقوں میں فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں استعفی دے کر سعودی عرب بھاگ جانے والے سابق صدر منصور ہادی کے چار مسلح دہشت گرد ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔ اس رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے لحج صوبے کے نواح میں پیشقدمی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، باب المندب، اور ذباب نامی علاقوں کو آزاد اور سعودی ایجنٹوں کو عین الحارہ اور خور عمیر کے علاقوں تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔
یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ کے رضاکاروں نے ایک اور کاروائی کے دوران صوبہ تعز میں وازیہ اور صوبہ ضالع میں تباب اور مریس کی پہاڑیوں کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد ان علاقوں کو سعودی ایجنٹوں سے پاک کر دیا ہے۔
باخبرذرائع نے بتایا ہے کہ سابق مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی کے مسلح دہشت گردوں کا ایک کمانڈر سلطان عبداللہ حمود صوبہ تعز کے علاقے مسراخ سے بھاگ گیا اور یہ علاقہ بھی انصاراللہ کی عوامی کمیٹیوں کےقبضے میں آگیا ہے۔ یمنی فوج نے اسی صوبے میں میزائل حملہ کرکے سعودیوں کی ایک بکتر بند گاڑ ی کو بھی تباہ کردیا جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے ربوعہ اور عسیر نامی علاقوں کے، یمنی فوج کے قبضے میں چلے جانے کے بعد ان علاقوں پر بمباری کی ہے۔ سعودی عرب کے علاقے نجران میں شرفہ نامی فوجی چھاونی پر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں وہاں موجود متعدد بکتر بند گاڑیوں میں آگ لگ گئی ہے۔

یمن کے رہائشی علاقوں پر سعودی بمباری کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے اور سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ مارب اور صعنا کو ملانے والی رابطہ شاہراہ پر سبزیاں اور پھل لے جانے والے متعدد ٹرکوں کو نشانہ بنانے کے بعد انہیں تباہ کردیا ہے۔ صوبہ صعدہ کے علاقوں کتاف اور یسنم پر سعودی جیٹ طیاروں کی بمباری میں رہائش مکانات کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ سعودی جنگی طیاروں نے صوبہ حجہ کے علاقے حیدان میں پانی کے کنؤوں کو بھی بمباری کر کے تباہ کر دیا ہے۔
حدیدہ، حرض اور باقم نامی شہروں پر سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں کم سے کم چار افراد شہید اور ایک درجن کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔
درایں اثنا یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے ایک اعلی عہدیدار نے ان خبروں کی سختی کے ساتھ تردید کی ہےکہ عدن شہر پر ملک کے سابق صدر منصور ہادی کے حامی مسلح دہشت گردوں کا کنٹرول ہوگیا ہے۔ انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے سنیئر رکن محمد البخیتی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ منصور ہادی کے حامی کسی صورت میں اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ساحلی شہر عدن پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ان خبروں کی تصدیق کی کہ عدن میں یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کی ، سابق صدر منصور ہادی کے مسلح دہشت گردوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدن میں اہم اور حساس مقامات پر اب بھی یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس کا کنٹرول ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17