Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87379
Published : 16/11/2015 8:54

امریکی قرضوں میں اضافہ

امریکا کی فیڈرل حکومت پر قرضوں کا بوجھ جب سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان نئے بجٹ کا سمجھوتہ ہوا ہے، غیرمعمولی حدتک بڑھ گیا ہے
امریکا کی فیڈرل حکومت پر قرضوں کا بوجھ جب سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان نئے بجٹ کا سمجھوتہ ہوا ہے غیرمعمولی حدتک بڑھ گیا ہے - چنانچہ دونومبر سے جب امریکی وزارت خزانہ نے قرضے کی دوسری قسط حاصل کی ہے امریکی حکومت مزید چارسو باسٹھ ارب ڈالر کی مقروض ہوگئی ہے - اخبار واشنگٹن ٹائمز نے جمعے کو اس بارے میں لکھا ہے کہ امریکی حکومت آئندہ دوہزار سترہ تک طے شدہ سمجھوتے کے تحت قرض لیتی رہے گی - اخبار واشنگٹن ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہےکہ صدر باراک اوباما کے ذریعے جس دن قرضے کے حصول کے سمجھوتے پر دستخط کئے گئے اس کے اگلے ہی دن حیرت انگیز طور پر امریکی حکومت مزید تین سو انتالیس ارب ڈالرے کے قرضوں میں ڈوب گئی- امریکی حکومت کی تاریخ میں ایک بارمیں اتنی بڑی رقم کے قرضے تلے آجانے کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی - اس رپورٹ کے مطابق ان میں ایک سو ننانوے ارب ڈالر کا قرض حکومتی اداروں سے ہٹ کر دیگر ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے جبکہ ایک سو چالیس ارب ڈالر قرض خود سرکاری اداروں سے لیا گیا ہے - اخبار کے مطابق قرضے سے متعلق سمجھوتے کے قانونی ہونے کے بعد صدر باراک اوباما اپنی مدت صدارت کے آخری ایام تک اپنی حکومت کو بیس ٹریلین ڈالر کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیں گے - باراک اوباما کے عہدہ صدارت کی مدت جنوری دوہزار سترہ میں ختم ہو رہی ہے - امریکی وزارت خزانہ نے قرضوں کی رقم میں اضافے کے بارے میں کوئی بیان دینے سے گریز کیا ہے لیکن اقتصادی ماہرین اس پوری صورتحال کو غیر متوقع نہیں سمجھ رہے ہیں - اخراجات میں اضافے اور ٹیکس کے عمل میں سست رفتاری کی وجہ سے امریکا کی فیڈرل حکومت کو رواں سال اکتوبر کے مہینے میں ایک سو چھتیس ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا جو گذشتہ برس اکتوبر کے مہینے کے مقابلے میں بارہ فیصد زیادہ تھا - امریکی کانگریس نے ابھی حال ہی میں بجٹ کے بارے میں ایک بل پاس کیا ہے جس میں امریکی حکومت کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ آئندہ سولہ مہینے کے لئے جتنا چاہے قرض لے سکتی ہے - واضح رہے کہ پیر نو نومبر تک امریکا کی فیڈرل حکومت پر کل ناخالص قرض اٹھارہ ٹریلین چھے سو ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا جس میں تیرہ ٹریلین چار سو ارب ڈالر عام قرض تھا جو حکومتی اداروں سے ہٹ کر لیا گیا تھا - یاد رہے کہ دوہزار نو میں جب باراک اوباما نے امریکی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی اس وقت امریکی حکومت پر دس ٹریلین چھے سوارب ڈالر قرض تھا - امریکی کانگریس نے کچھ عرصے قبل قومی قرضے کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی تھی اس میں کئی حکومتوں پر قرضوں میں مسلسل اضافے کی کئی دلیلیں پیش کی تھیں - ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ حکومت کا خرچ بڑھتا جا رہا ہے لیکن آمدنی اتنی نہیں ہے جبکہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکومتی اخراجات میں اضافہ اس لئے ہورہا ہے کہ اقتصادی عدم استحکام روز بروز بڑھتا جارہا ہے اس کے علاوہ ملک کی اقتصادی صورتحال کے تعلق سے حکومت جو مختلف پالیسیاں وضع کر رہی ہے وہ بھی حکومت پر قرضے میں اضافے کا باعث بنی ہیں - قومی قرضے میں اضافے کی ایک وجہ صحت عامہ اور میڈیکل کے اخراجات بھی ہیں- ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں طبی خدمات کے اخراجات میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے بھی افراط زر کی شرح میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے - اوباما انتظامیہ نے حکومتی قرضوں کو کم کرنے کے لئے مختلف روشوں کا سہارا لیا ہے جن میں مالیات میں کمی، حکومتی اخراجات میں کمی اور طبی خدمات کے لئے نئی حکمت عملی کا اختیار کیاجانا شامل ہے لیکن ان میں سے ایک بھی روش موثر یا کارگر ثابت نہیں ہوسکی ہے - بلکہ قرضوں کے حجم میں اضافہ ہی ہوا ہے - یوں امریکا اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک بن چکا ہے اور یہ معاملہ آئندہ صدارتی انتخابات کا ایک اہم موضوع بھی بن چکا ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21