Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87382
Published : 16/11/2015 9:2

بحرین میں برطانیہ کے فوجی اڈوں کے خلاف مظاہرے

بحرین کے عوام نے ایک بار پھر ملک میں برطانوی بحری اڈے کے قیام کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔
بحرین کے عوام نے ایک بار پھر ملک میں برطانوی بحری اڈے کے قیام کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔
ہزاروں کی تعداد میں بحرینی شہری دارالحکومت منامہ کی سڑکوں پر آئے اور انہوں نے مینا سلمان بندرگاہ میں برطانوی بحری اڈے کے قیام کی مذمت کی۔ مظاہرین بحرین میں غیر ملکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے برطانوی بحری اڈے کے قیام کا فیصلہ منسوخ کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ بحرین میں برطانوی بحری اڈے کی تعمیر پر آنے والے تمام اخراجات بحرین کی شاہی حکومت سرکاری خزانے سے اد ا کرے گی۔ مذکورہ بحری اڈے میں مختلف برطانوی بحری جہازوں کو تعینات کیا جائے گا۔ بحرین میں فرروری دوہزار گیارہ سے عوامی انقلابی تحریک جاری ہے اور اس ملک کے عوام اپنے قانونی و جمہوری حقوق کی بالادستی اور ملک کی خود مختاری کو مغربی ممالک پاس گروی رکھنے کی شاہی حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کر بحرین کی شاہی حکومت اور برطانوی عہدیداروں نے ایک سال پہلے منامہ کانفرنس کے موقع پر مذکورہ بحری اڈے کے قیام کے سمجھوتے پر دستخط کیے۔ برطانیہ نے معاہدے سے مدتوں پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ بحرین کی مینا سلمان بندرگاہ پر ایک بحری اڈاہ قائم کرنا چاہتا ہے جس میں اس کے چار بحری جنگی جہاز مستقل بنیادوں پر تعینات رہیں گے۔
بحری اڈے کے قیام کی دستاویز پر بحرین اور برطانیہ کے وزارائے خارجہ نے دستخط کیے تھے اور اسے منامہ لندن تعلقات کے فروغ کی علامت قرار دیا تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بحرین اور برطانیہ ، اس نئے دفاعی معاہدے کے تحت ، جس کے نتیجے میں خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں برطانیہ کی فوجی پوزیشن مستحکم ہوگی، خاص اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت بحرین کو عوامی احتجاج کی شدید لہروں کا سامنا ہے اور شاہی حکومت عوامی انقلابی تحریک پر قابو پانے کے لیے برطانوی فوجی طاقت کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔ حتی بعض برطانوی اخبارات نے بھی اپنی رپورٹوں میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ بحرین میں تعینات کی جانے والی برطانوی فوج کا پہلا مشن انقلابی تحریک کو دبانا ہے۔
پچھلے چار برس کے دوران بحرین کی شاہی حکومت مغربی ملکوں سے یہ اپیل کرتی چلی آئی ہے کہ اندرون ملک استحکام میں اس کی مدد کی جائے لیکن برطانیہ بحرین کے ساتھ فوجی تعاون کے معاہدے کے ذریعے بہت سے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
برطانیہ تاحال بحرین پر اپنےسامراجی تسلط کو بھولا نہیں ہے اور ایک بار پھر اس خطے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی فکر میں ہے۔ برطانیہ کے سیاسی اور فوجی عہدیدار ایک عرصے سےخلیج فارس میں اپنی فوجی موجودگی کا خواب دیکھتے چلے آرہے ہیں۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ برطانیہ بھی اسلحہ بنانے والے دوسرے مغربی ملکوں کی طرح ، اپنا اسلحہ فروخت کرنا چاہتا ہے اور موجودہ حالات میں سیکورٹی خدشات کو ہوا دینا ، بھی خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ملکوں میں اپنی فوجی موجودگی اور اسلحہ بیچنے کا ایک بہانہ ہے۔
سیاسی ماہرین برطانوی فوجی اڈے کے قیام کی اجازت دیئے جانے کو ، بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر برطانیہ کی خاموشی کا انعام قرار دے رہے ہیں۔
برطانیہ اور امریکہ، بحرین میں فروری دوہزار گیارہ سے جاری عوامی انقلابی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کی حمایت کر رہے ہیں۔
بحرینی عوام کے مظاہرے ، ملک میں برطانوی فوجی اڈے کے قیام کی اجازت دیئے جانے کے خلاف عوامی ریفرنڈم کے مترادف ہیں، بحرین کے عوام ایسے ہی مظاہرے، بارہا، اپنے ملک کے ساحلی علاقے میں قائم امریکی بحری اڈے کے خلاف بھی کرتے رہے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20