Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87980
Published : 23/11/2015 16:56

تکفیری دہشت گردی سے مقابلے کے لئے معقول فکری تحریکوں کی تقویت ضروری ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ترکمانستان کے صدر سے ملاقات میں تکفیری دہشت گردی سے مقابلے کے لئے عوام کو صحیح اسلامی سرگرمیوں کی اجازت دینے اور معقول فکری تحریکوں کی تقویت کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمد اف نے اتوار کو تہران میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید خامنہ ای سے ملاقات کی ۔ 
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں ایران اور ترکمانستان کے دوستانہ روابط کی تقویت کی ضرورت پر زور دیا ۔ آپ نے اسی کے ساتھ دہشت گردی کے مقابلے میں بھی دونوں ملکوں کے باہمی تعاون میں توسیع کو ضروری قرار دیا ۔ 
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ دہشت گردانہ تحریکوں اور عوام میں ان کے اثرونفوذ کو روکنےکے لئے ضروری ہے کہ عوام کو صحیح اسلامی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے اور معتدل نیز معقول فکری تحریکوں کی تقویت کی جائے ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ داعش اور دیگر تکفیری دہشت گرد گروہوں کی جو اسلام کے نام پر جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، ان کی درندگی اور وحشیانہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کی صحیح اسلامی سرگرمیوں اور معتدل فکری تحریکوں کی تقویت ضروری ہے ۔آپ نے تکفیری دہشت گردوں کے وحشیانہ اور انسانیت سوز جرائم، لوگوں کے سر قلم کرنے اور انہیں زندہ جلانے کے اقدامات کو ان کے اسلام سے نابلد ہونے کا ثبوت بتایا اور فرمایا کہ اسلام ، برادری، بھائی چارے، محبت اور خیر خواہی کا دین ہے اور ان جرائم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 
آپ نے پڑوسی ملکوں کی سلامتی ، رفاہ وآسائش اور ترقی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے فائدے میں بتایا اور فرمایا کہ ایران اور ترکمانستان کی سرحد امن و دوستی کی سرحد رہی ہے ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسی کے ساتھ ایران کے ذریعے خلیج فارس اور آزاد سمندر تک رسائی کے امکان کو ترکمانستان کے لئے اہم قرار دیا ۔ آپ نے علاقے کے کشیدہ حالات میں ایران اور ترکمانستان میں امن و سلامتی کا ذکر کرتے ہوئے اس صورتحال کی بقا کےلئے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو ضروری قرار دیا ۔ 
اس ملاقات میں ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری بھی موجود تھے۔ ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف نے اپنے دورہ تہران پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کے ساتھ ملاقات ، ان کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور ترکمانستان کے درمیان شروع ہی سے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔ 
ترکمانستان کے صدر نے اپنے پچھلے دورے کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کی سفارشات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک دانا قائد اور مفکر انسان کی حیثیت سے آپ کی باتیں ہمارے لیے اتنہائی اہمیت رکھتی ہیں اور آپ کی سفارشات پر عمل کے انتہائی اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
صدر قربان قلی بردی محمدوف نے ایران اور ترکمانستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی بےپنا گنجائشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ، دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ اقتصادی اور تعمیراتی منصوبوں سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔ شاہراہ ریشم کی تاریخی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ترکمانستان کے صد کا کہنا تھا کہ بعض ممالک ایران اور ترکمانستان کے راستے کھلے سمندروں تک رسائی کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے خطے کی سیاسی صورتحال اور داعش دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ، داعش اور اس جیسے دیگر گروہوں کا اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسو س اس بات کا ہے کہ بعض حکومتیں اس دہشت گرد گروہ کی مالی اور سیاسی حمایت کر رہی ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14