Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 87985
Published : 23/11/2015 17:20

شام کے بحران کے طول پکڑنے کی اہم وجہ بیرونی مداخلت

اسلامی حمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے شام کے بحران کے طول پکڑنے کو بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

اسلامی حمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے شام کو موجودہ بحران سے باہر نکالنے کے لئے بیرونی مداخلت کے خاتمے، فوری جنگ بندی، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پوری ہم آہنگی کے ساتھ جدوجہد اور شام کی حکومت اور ان کے مخالفین کے درمیان مذاکرات شروع کرانے میں مدد اور تعاون کو ضروری قرار دیا ہے ۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک تازہ مقالے میں لکھا ہے کہ نئی تبدیلیوں اور ویانا میں ہونے والے دو اجلاسوں کے بعد شام کا بحران نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دور حاضر کے اس سب سے بڑے انسانی المیے کے خاتمے کے لئے کمزور ہی سہی لیکن امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔

انھوں نے شام کے بحران کے حل کے لئے ضروری تجاویز پیش کی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ شام کے بحران کے تعلق سے اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی، شروع سے ہی تین اصولوں پر استوار رہی ہے۔ ایک، شام کے عوام کے مطالبات و خواہشات کا احترام، دو، شام میں فوجی مداخلت اور شام کی آزاد قوم اور حکومت پر بیرونی طاقتوں کی خواہشات مسلط کئے جانے کی مخالفت، اور تین، ملکوں کے اندرونی اختلافات میں سیاسی اہداف کے لئے دہشت گردی سے کام لینے کی مخالفت۔ 

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے مطابق مذکورہ تینوں اصولوں کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ کہا ہے کہ شام کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ایران نے ہمیشہ ایسے سیاسی حل پر زور دیا ہے جس پر شام کی حکومت اور ایسے مخالفین مذاکرات کے ذریعے متفق ہوں جو دہشت گردی کے مخالف ہیں۔ 

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے لکھا ہے کہ شام کے بحران کا طول پکڑنا اور اس ملک کے عوام کی المناک حالت بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے اپنے اس مقالے میں لکھا ہے کہ ان ملکوں کی حکومتوں نے جہاں ڈیموکریسی اور جمہوریت کا نام و نشان تک نہیں ہے اور جہاں کبھی آزاد الیکشن تک نہیں ہوا، عوام کے مطالبات کی حمایت کے بہانے شام میں مداخلت کرکے حالات بدتر کئے ہیں۔ 

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے لکھا ہے کہ بیرونی عناصر کو شام کے عوام کی جانب سے کوئی فیصلہ کرنے اور ان کی طرف سے بولنے کا حق نہیں ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ شام کے بحران کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی ہو، قتل و خونریزی بند ہو، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کے لئے عالمی برادری میں ہمہ گیر ہم آہنگی وجود میں آئے جس سے بعد کے اقدامات کے لئے حالات سازگارہوں ۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ بیرونی طاقتوں کو شام کے اندر مداخلت اور شامی عوام پر اپنی بات مسلط کرنے کی کوشش کے بجائے، تکفیری دہشت گردوں سے بلاتفریق اور کسی شرط کے بغیر مقابلہ اور حکومت اور مخالفین کے درمیان مذاکرات شروع کرانے میں مددکرنی چاہئے۔ 

انھوں نے لکھا ہے کہ اگرچہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے لئے فوجی طاقت اور جنگی وسائل کا استعمال ناگزیر ہے لیکن اسی کے ساتھ ہمہ گیر سماجی، ثقافتی اور اقتصادی اقدامات بھی ضروری ہیں جن کے بغیر فوجی کارروائیوں، حتی سیاسی اقدامات کے اثرات بھی عارضی ہوں گے۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے اس اہم مقالے میں تکفیریت کی ترویج کی روک تھام کو بھی ضروری قرار دیا۔ انھوں نے اسی کے ساتھ سیاسی راہ حل تک پہنچنے کے لئے شام کے اندر اور ملک سے باہر مہاجرت پر مجبور شامی پناہ گزینوں کی فوری ضروریات پر توجہ کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18