Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 88141
Published : 25/11/2015 16:27

ترکی کو روسی صدر کا انتباہ

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے شامی سرحد پر ترکی کی جانب سے روسی لڑاکا طیارہ مارگرانے کو ’ پیٹھ میں خنجر گھونپنے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

روس کے شہر سوچی میں منگل کے روز اردن کے شاہ عبداللہ دوئم سے ملاقات کے دوران اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا "روس کی کمر میں یہ خنجر دہشت گردوں کے ساتھیوں نے گھونپا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں شک نہیں کہ اس واقعے کے ماسکو- انقرہ تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

صدر ولادیمیر پوتن نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ترک فضائیہ کے طیارے کے حملے میں گرنے والا روسی طیارہ شامی علاقے پر پرواز کر رہا تھا اور وہ کسی صورت میں ترکی کیلئے خطرہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ روسی طیارے کو اس وقت مار گرایا گیا جب وہ ترک سرحد سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ روس کے صدر کا کہنا تھا کہ طیارہ مار گرانے کے بعد ترکی کا رویہ ایسا ہے کہ جیسے ہم نے ترکی کا طیارہ مار گرایا ہو۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ مار گرانے کے بعد ترکی نے روس سے رابطے کے بجائے نیٹو میں اپنے اتحادیوں سے رابطہ کیا اور انہیں واقعے کی تفصیلات بتائیں، گویا ہم نے اس کے طیارے پر فائرنگ کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ترک فضائیہ نے منگل کے روز، شام کے سرحدی شہر لاذقیہ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے والے ایک روسی جیٹ طیارے کو مار گرایا تھا۔ ترک حکام نے دعوی کیا ہے کہ مذکورہ روسی طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور اسے وارننگ دینے کے بعد مار گرایا گیا۔

ترک وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے روسی جنگی طیارہ مار گرانے کے بعد وزیرخارجہ اور مسلح افواج کے سربراہ سے ہنگامی ملاقات بھی کی ہے۔

ترکی نے انقرہ میں روسی سفارت خانے کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ میں طلب بھی کیا ہے۔ ادھر روسی وزارت دفاع کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مار گرایا جانے والا طیارہ شام کی حدود میں پرواز کررہا تھا اور اس نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف نہیں کی تھی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16