Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 88144
Published : 25/11/2015 16:36

روس کی جانب سے شام میں جدید میزائلی سسٹم کی تعیناتی کا اعلان

ترکی کے ذریعے روس کا ایک جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے ایک دن بعد ماسکو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا جدید ترین میزائلی سسٹم ایس چار سو، شام کے علاقے لاذقیہ میں تعینات کر رہا ہے۔

ترکی کے ذریعے روس کا ایک جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے ایک دن بعد ماسکو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا جدید ترین میزائلی سسٹم ایس چار سو، شام کے علاقے لاذقیہ میں تعینات کر رہا ہے۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شویکوف نے ترکی کے اقدام کے جواب میں کہا ہے کہ یہ جدید ترین میزائلی سسٹم لاذقیہ میں حمیم ایر بیس روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی بدھ کو اعلان کیا کہ روس کا ایک اور میزائلی سسٹم، ایس تھری ہنڈریڈ شام کے علاقے لاذقیہ میں تعینات کیا جائے گا۔

روسی صدر پوتن نے ترکی کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اس وقت اپنے ملک کو انتہا پسندی کی جانب لے کر جا رہی ہے۔ روسی صدر نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے دوبارہ اس قسم کی کارروائی کی تو روسی فوج اس کا سخت جواب دے گی۔ صدر پوتن نے روسی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ترکی کا سفر نہ کریں۔

اس درمیان روسی وزیراعظم دمیتری مدویدیف نے بھی ترکی کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو، انقرہ کے ساتھ اپنے بعض مشترکہ پروجیکٹ اور منصوبوں کو منسوخ کر رہا ہے۔

مدویدیف نے کہا کہ ترک حکام کے اس اقدام سے روس اور نیٹو کے تعلقات مزید کشیدہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے اپنے اس اقدام سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ داعش کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے اپنے اس اقدام کے ذریعے روس اور ترکی کے درمیان دیرینہ اچھی ہمسائیگی کے اصول کو توڑا ہے اور اس سے مختلف شعبوں میں روس اور ترکی کے تعلقات کمزور ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی بہت مشکل سے ہو سکے گی۔ اس درمیان روس کی سیاحت کی صنعت کے ایک بڑے ادارے نے، جو ترکی جانے والے سیاحوں کے لئے ٹور کا انتظام کرتا ہے، اعلان کیا ہے کہ اس نے ترکی کے لئے سیاحتی ٹور کے پروگرام فی الحال روک دیئے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18