Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 88162
Published : 25/11/2015 18:32

ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفون پر گفتگو

ایران اور روس کے وزرائے خارجہ نے ٹیلی فونی گفتگو میں شام کی سرزمین پر ترکی کی طرف سے روسی جنگی طیارہ مار گرائے جانے سے متعلق صورت حال کا جائزہ لیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان صادق حسین جابر انصاری نے بدھ کے روز ایران اور روس کے وزرائے خارجہ محمد جواد ظریف اور سرگئی لاوروف کے درمیان ٹیلی فونی گفتگو کی خبر دی اور کہا کہ محمد جواد ظریف نے اس گفتگو میں روسی جنگی طیارہ مار گرائے جانے سے متعلق تازہ ترین صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

محمد جواد ظریف نے اس طرح کے واقعات کو بحران شام میں شدت اور دہشت گرد گروہوں کو غلط پیغام پہنچنے کا باعث قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس ٹیلی فونی گفتگو میں کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر شام کے حالات کی حساسیت اور عالمی امن و سلامتی پر اس کے اثرات نیز دہشت گردی کا متحدہ طور پر بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کئے جانے کی ضرورت کو ثابت کیا ہے۔

محمد جواد ظریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کوشش میں کامیابی، دہشت گردی کے مقابلے میں متحدہ علاقائی اور بین الاقوامی عزم و ارادے کی متقاضی ہے۔

واضح رہے کہ کل منگل کے روز ترکی نے شام کی سرزمین میں ترکی کی سرحد کے قریب روس کے ایک جنگی طیارے سوخوئی چوبیس کو مارگرایا تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مطابق اس طیارے کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ روس کے سوخوئی چوبیس جنگی طیارے نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور ترکی کے ایف سولہ جنگی طیارے نے اس روسی جنگی طیارے کو باربار انتباہ دینے کے بعد مارگرایا۔

ادھر روسی وزارت خارجہ نے شام میں روسی جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کے ترکی کے اقدام کے رد عمل میں اسٹریٹیجک کونسل کے دائرے میں ہونے والا روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منسوخ کر دیا ہے اور روسی شہریوں سے ترکی کا سفر نہ کرنے کو کہا ہے۔

دریں اثنا روس کے ایک اعلی فوجی افسر سرگئی رودسکو‏ئے نے روسی جنگی طیارے کے ذریعہ ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے ترکی کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق سرگئی رودسکوئے نے بدھ کے روز روسی جنگی طیارے کی پرواز کی تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیٹلائٹ اطلاعات اور ماہرین کی تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ روسی جنگی طیارہ مقررہ راستے اور اپنی کارروائی کی پرواز پر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کا دعوی سیٹلائٹ نقشے کی بنیاد پر صحیح ثابت نہیں ہوا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16