Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183387
Published : 11/9/2016 19:8

کیا امام حسین (ع) نے حج کو نامکمل چھوڑا؟

ذی الحجہ کی ۸ تاریخ ،کا دن «یوم الترویہ»کے نام سے مشھور ہے ،ذی الحجہ کی پھلی دھائی میں تیسرے امام المؤمنین وارث المرسلین و حجت رب العالمین سید الشھداء کے بارے میں ایک سوال جو پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیوں امام حسین علیہ السلام نے اپنے حج کو«الترویہ» کے دن نامکمل چھوڑ کر مکہ سے کوچ کیا ؟

اس سے پھلے کہ ھم اس سوال کا تاریخی تجزیہ کریں ،یہ یاد دلادیں کہ فقہی لحاظ سے یہ مشہور واقعہ کہ تیسرے امام المؤمنین و وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام حسین علیہ السلام  نے حج کو نامکمل چھوڑ دیا تھا ،درست نہیں ہے ، اس لیے کہ امام علیہ السلام ذی الحجہ کی ۸ تاریخ یعنی«یوم الترویہ» کو مکہ سے نکلے تھے (۱) جب کہ حج کے اعمال کہ جو مکہ میں احرام اور عرفات میں وقوف سے شروع ہوتے ہیں وہ ذی الحجہ کی نویں شب سے شروع ہوتے ہیں ،اس بنا پر امام نے حج کے اعمال شروع ہی نہیں کیے تھے کہ یہ کہا جائے کہ آپ نے حج کو نامکمل چھوڑ دیا تھا ۔
جی ہاں ! حضرت نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عمرہء مفردہ انجام دیا ،اور مکہ میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران مختلف اوقات میں آپ نے عمرہ کے اعمال انجام دیے ہوں گے ،لیکن عمرہ مفردہ کے اعمال انجام دینے کا مطلب حج کے اعمال کا  آغاز کرنا نہیں ہے ،بعض روایات میں صرف اتنا ہے کہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے عمرہ مفردہ بجا لایا (۲)۔
اگر چہ مشہور و معروف یہ ہے اور بعض کتابوں جیسے شیخ مفید کی الارشاد میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا اور طواف اور سعی انجام دے کر احرام کھول دیا چونکہ آپ حج کو مکمل نہیں کر سکتے تھے (۳) لیکن یہ چیز بعید معلوم ہوتی ہے کہ حضرت نے حج کا احرام باندھا ہو چونکہ جو شخص حج کے اعمال انجام دینا چاہتا ہے وہ علی القاعدہ آٹھویں یا نویں ذی الحجہ کو احرام باندھتا ہے اور اس سے پہلے احرام باندھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
اس بات کی تائیید کے لیے کچھ روایات کافی میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے بعض کی جانب ہم اشارہ کرتے ہیں ؛
«عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ خَرَجَ فِی أَشْهُرِ الْحَجِّ مُعْتَمِراً ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بِلَادِهِ قَالَ لَا بَأْسَ وَ إِنْ حَجَّ فِی عَامِهِ ذَلِکَ وَ أَفْرَدَ الْحَجَّ فَلَیْسَ عَلَیْهِ دَمٌ فَإِنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ ع خَرَجَ قَبْلَ التَّرْوِیَةِ بِیَوْمٍ إِلَى الْعِرَاقِ وَ قَدْ کَانَ دَخَلَ مُعْتَمِراً» (۴)۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : امام حسین علیہ السلام ذی الحجہ کے آٹھویں دن سے پہلے مکہ سے نکل گئے تھے حالانکہ آپ پہلے حج کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرے کی نیت سے مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ نے عمرہ کیا تھا ۔
اس روایت سے یہ ثابت نھیں ہوتا کہ آپ نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا ہو ۔
ایک اور روایت میں امام صادق علیہ السلام  نے فرمایا:«قَدِ اعْتَمَرَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ع فِی ذِی الْحِجَّةِ ثُمَّ رَاحَ یَوْمَ التَّرْوِیَةِ إِلَى الْعِرَاقِ وَ النَّاسُ یَرُوحُونَ إِلَى مِنًى وَ لَا بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِی ذِی الْحِجَّةِ لِمَنْ لَا یُرِیدُ الْحَجَّ»(۵)۔
امام حسین علیہ السلام نے ماہ ذی الحجہ میں عمرہ انجام دیا اس کے بعد ترویہ کے دن عراق کی جانب چلے گئے چنانچہ جو شخص حج نہیں کرنا چاہتا وہ عمرہ کر سکتا ہے ۔
جی ہاں ! حضرت نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عمرہ مفردہ انجام دیا ،اور مکہ میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران مختلف اوقات میں آپ نے عمرہ کے اعمال انجام دیے ہوں گے ،لیکن عمرہء مفردہ کے اعمال انجام دینے کا مطلب حج کے اعمال کا  آغاز کرنا نہیں ہے،شاید جب آپ کو پتہ چلا ہو گا کہ یزید کے سپاہی آپ کو حرم میں چھپ کر قتل کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے عراق کی جانب جانے کا فیصلہ کر لیا ،چنانچہ اس وقت امام علیہ السلام نے ایک اور عمرہ انجام دینے کے لیے احرام باندھا اور اس کو مکمل کیا اور احرام اتار دیا اور ترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ کے دن  مکہ سےعراق کی جانب روانہ ہو گئے۔
تاریخی نقطہ نظر سے یہ سوال بھر حال باقی ہے کہ اس کے باوجود کہ مکہ کو انتخاب کرنے کی وجہ اپنے نظریات کی تبلیغ کے لیے مناسب موقعہ نکالنا تھا  ،تو کیوں آپ نے ٹھیک اس وقت کہ جب دنیا کے مختلف علاقوں سے  مکہ ،عرفات اور منی میں حاجی جمع ہو رہے تھے اور آنحضرت کے پاس تبلیغ کا بھترین موقعہ تھا اچانک آپ نے مکہ کو چھوڑ دیا ؟
اس اچانک فیصلے کے اسباب کو ہم مختصر طور پر یوں بیان کر سکتے ہیں :
1۔جانی خطرے کا احتمال

امام حسین علیہ السلام کے بعض ارشادات سے کہ جو آپ نے ان مختلف شخصیات سے فرمائے تھے کہ جو آپ کے مکہ چھوڑ کر کوفہ کی جانب جانے کے خلاف تھے ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام مکہ میں زیادہ رہنے کو اپنے لیے خطر ناک مانتے تھے ؛چنانچہ آپ نے ابن عباس کے جواب میں فرمایا ؛ کسی دوسری جگہ قتل ہو نا مجھے مکہ میں قتل ہونے سے کھیں زیادہ پسند ہے (۶)۔
نیز عبد اللہ ابن زبیر سے فرمایا : خدا کی قسم اگر میں مکہ سے ایک بالشت باہر قتل کیا جاؤ ں تو مجھے یہ چیز اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک بالشت مکہ کے اندر مارا جاوں،خدا کی قسم اگر میں جانوروں کے گھونسلے میں بھی پناہ لے لوں تو یہ لوگ جو کچھ مجھ سے چاہتے ہیں اسے حاصل کرنے کے لیے مجھے اس سے بھی باہر کھینچ لیں گے(۷)۔
نیز آپ نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو صاف طور بتا دیا تھا کہ یزید آپ کو حرم امن میں قتل کرانا چاہتا ہے (۸) بعض متون میں اس چیز کا ذکر صراحت کے ساتھ ہوا ہے کہ یزید نے کچھ لوگوں کو ہتھیار دے کر امام حسین (ع) کو قتل کرنے کے لیے مکہ بھیجا تھا (۹)۔
2۔حرم خدا کی بے احترامی نہ ہو نا

بیان شدہ بعض عبارتوں میں آگے امام حسین (ع) کی جانب سے اس نقطے کی یاد آوری پائی جاتی تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے قتل کیے جانے سے خانہ خدا کی بے احترامی ہو چاہے اس گناہ کے ذمہ دار اموی قاتلین اور جرائم  پیشہ افراد ہی کیوں نہ ہوں ۔
آنحضرت نے عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ ملاقات میں اس بات کو تعریض کے انداز میں بتا دیا تھا کہ وہ بعد میں مکہ میں پناہ لے گا اور یزید کے لشکر والے حرم کے احترام کو تاڑیں گے،آپ نے ابن زبیر کے جواب میں فرمایا : میرے باپ علی (ع) نے مجھ سے فرمایا تھا کہ مکہ میں ایک قوچ ہے کہ جس کے ذریعے مکہ کی حرمت پامال کی جائے گی اور میں نہیں چاہتا کہ میں اس قوچ کا مصداق بنوں(10)۔
حوالہ جات:
(۱) واقعة الطف ، ص ۱۴۷ ۔
(۲ ) وسایل الشیعة، ج ۱ ، ص ۲۴۶ کتاب حج باب ۷ ابواب العمرہ ج ۲ اور ۳ ۔
(۳) شیخ مفید ، الارشاد ج ۲ ص۶۸ ۔
(۴و ۵) الکافی ج ۴ ص ۵۳۶ ۔
(۶)ابن کثیر ، البدایة و النھایة ، ج ۸ ص ۱۵۹ ۔
(7 )واقعة الطف ، ص ۱۵۲ ۔
(۸ ) سید ابن طاووس ، لھوف ، ص ۸۲ ۔
(۹ ) گذشتہ حوالہ س ۸۲ ۔
(۱۰ ) ابن اثیر الکامل فی التاریخ ، ج ۲ ص ۵۴۶ ۔
Shafaqna.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11