Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184518
Published : 10/12/2016 15:0

اہل بیت علیہم السلام کی عظمت نہج البلاغہ کی روشنی میں

حضرت امیر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:یہ قرآن ہے اس سے گفتگو کرو،لیکن یہ تم سے گفتگو نہیں کرے گا (اپنے حقائق اور معارف آشکار نہیں کرے گا)لیکن میں قرآن کریم کے بارے میں تمہیں مطلع کر رہا ہوں (اس کے علوم ومعارف کو بیان کر رہا ہوں )یاد رکھو کہ اس میں آئندہ کی پیشین گوئیاں ،گذشتہ کی خبریں اور تمہاری بیماری کی دوا اور تمہارے لئے مکمل نظام موجود ہے۔


ولایت پورٹل:اب تک ہم قرآن مجید اور احادیث نبوی کی روشنی میں اہل بیت(ع) کو علمی اورعملی مقام ومنزلت سے واقف ہوئے ہیں لہٰذا اس مقام پر مناسب ہے کہ اہل بیت(ع) کی عظمت ومنزلت اور ان کے مقام ومرتبہ کو خود حضرت علی(ع)کے اقوال میں تلاش کریں کیونکہ آپ باب مدینہ علم پیغمبر(ص)اور حق وباطل کا معیار ہیں،لہٰذا پر نہج البلاغہ سے مولائے کائنات کے کچھ اقوال اس مقام پر نقل کر رہے ہیں:«ھم عیش العلم وموت الجھل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لا یخالفون الحق ولا یختلفون فیه ھم دعائم الاسلام ولائج الاعتصام  بھم عاد الحق فی نصابه وانزح الباطل عن مقامه»۔(۱)
ترجمہ:یہ حضرات علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ حق کی مخالفت نہیں کرتے اور نہ ہی حق کے بارے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف ہوتا ہے،یہ اسلام کے ستون اور پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے پر امن پناہ گاہ ہیں ان کے ذریعہ حق اپنی منزل پر واپس آتاہے اور باطل کا خاتمہ ہو جاتاہے۔
«فاین تیاہ بکم وکیف تعمھون وبینکم عتره نبیکموھم ازمة الحق واعلام الدین والسنةالصدق فانزلوھم باحسن منازل القرآن وردوھم ورود الھیم العطاش»۔(۲)
ترجمہ:تعجب ہے تمہیں کہاں لے جایا جارہا ہے اور تم کس طرح گمراہ ہوتے جا رہے ہو ؟جب کہ پیغمبر اکرم (ص)  کی عترت تمہارے درمیان موجود ہے یہ حق کے قائد،دین کی نشانیاں صداقت کے ترجمان انہیں قرآن کریم کی بہترین منزل پر جگہ دو اور ان کے پاس اس طرح وارد ہو جس طرح پیاسے اونٹ چشمے پر وارد ہوتے ہیں۔
ابن ابی الحدید نے مولائے کائنات کے اس کلام کی شرح میں یہ کہا ہے:«اگر یہ کہا جائے کہ امام (ع) کا یہ جملہ اہل بیت (ع)  کی عصمت پر دلالت کرتا ہے تو اس سلسلہ میں آپ کے علماء کا خیال کیا ہے؟۔پھر انہوں نے یہ جواب دیا ہے:«ابو محمد بن متوبہ نے اپنی کتاب«الکفایة» میں یہ تصریح کی ہے کہ حضرت علی(ع)معصوم ہیں ،اگر چہ ہم ان کی عصمت کو امام ہونے کے باعث ضروری نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ  عصمت امامت کی شرط نہیں ہے ،لیکن حضرت علی(ع)کی عصمت مختلف دلائل اور نصوص سے ثابت ہے،اور اصحاب پیغمبر اکرم(ص) کے درمیان یہ امتیاز صرف آپ کوہی کو حاصل ہے»۔(۳)
«انظروا اہل بیت نبیکم فالزموا سمتھم واتبعوا اثرھم فلن یخرجکم من ھدی ولن یعیدوکم فی ردی فان لبدواوان نھضوافانھضواولا تسبقوھم فتضلوا ولاتتاخر واعنھم فتھلکوا»۔(4)
ترجمہ:لہٰذا اپنے نبی کے اہل بیت(ع)کو دیکھو ،ان سے بالکل وابستہ ہوجاؤ ،انہیں کے نقش قدم پرچلو ان کی پیروی کرو،کیونکہ وہ تم کو ہدایت کے راستے سے باہر نہیں لے جائیں گے اور وہ تمہیں گمراہی کی وادی میں واپس نہیں پلٹنے دیں گے ،اگر وہ رک جائیں تو تم رک جانا او اگر روانہ ہوجائیں تو چل پڑناان سے آگے نہ بڑھنا ورنہ گمراہ ہو جاؤگے ۔ان سے دور نہ ہونا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔
اس گفتگو کے آخر میں یہ تاکید ضروری ہے کہ ائمہ طاہرین(ع)در حقیقت قرآن وسنت کے ترجمان ہیں یعنی ان بزرگوار ہستیوں نے دینی علوم اور احکام کے سلسلہ میں جو کچھ بھی بیان کیا ہے وہ درحقیقت قرآن وسنت کی تفسیر اور وضاحت ہے جیسا کہ کتاب وسنت کے عنوان کے ذیل میں معصومین(ع) کی یہ حدیث نقل کی جا چکی ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کا حکم قرآن وسنت میں موجود نہ ہو۔البتہ ائمہ(ع) نے یہ وضاحت اور تأکید بھی کردی ہے کہ کتاب وسنت کے تمام علوم اور احکام کو ان کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا ہے کیونکہ یہی حضرات علوم پیغمبر(ص)کے حقیقی وارث اورراسخون فی العلم ہیں چنانچہ اس بارے میں حضرت علی(ع)نے  فرمایاـ:«ذلک القرآن فاستنطقوہ ولن ینطق ولکن اخبرکم عنه الا ان فیه علم ما یاتی والحدیث عن الماضی ودواء دائکم ونظم مابینکم»۔(5)
ترجمہ:یہ قرآن ہے  اس سے گفتگو کرو،لیکن یہ تم سے گفتگو نہیں کرے گا (اپنے حقائق اور معارف آشکار نہیں کرے گا)لیکن میں قرآن کریم کے بارے میں تمہیں مطلع کر رہا ہوں (اس کے علوم ومعارف کو بیان کر رہا ہوں )یاد رکھو کہ اس میں آئندہ کی پیشین گوئیاں ،گذشتہ کی خبریں اور تمہاری بیماری کی دوا اور تمہارے لئے مکمل نظام موجود ہے۔
امام جعفر صادق(ع)کا ارشاد:«کتاب اللّٰه فیه نبأ ما قبلکم و خبرمابعد کم وفصل ما بینکم ونحن نعلمه»۔(6)
ترجمہ:اللہ کی کتاب میں تم سے پہلے کی خبریں اور تمہارے بعد آنے والے حالات کی معلومات اور تمہارے اختلافات کا حل موجود ہے اور ہم اس سے واقف ہیں۔
دوسرے مقام پر آپ(ع)  نے ارشاد فرمایا:«نحن الراسخون فی العلم ونحن نعلم تاویله»۔(7)
ترجمہ:ہم ہی راسخون فی العلم ہیں اورہم ہی قرآن کریم کی تاویل کے عالم ہیں۔
ایک اورموقع پر آپ(ع) نے ارشاد فرمایا:«واللّٰه انی لاعلم کتاب اللّٰه من اوله الیٰ آخرہ،کانه فی کفّی فیه خبر السماء وخبر الارض وخبر ما کان وخبر ماھو کائن ،قال اللّٰه عزوجل فیه تبیان کل شیء»۔(8)
ترجمہ:خدا کی قسم میں اللہ کی کتاب سے ابتداء سے آخر تک اس طرح باخبر ہوں جیسے وہ میری ہتھیلی پر ہو،اس میں آسمان کی خبر ،زمین کی اطلاع اور جو کچھ ہو چکا ہے اورجو کچھ آئندہ ہونے والا ہے سب کی خبریں موجود ہیں۔خداوند وعالم کا ارشادہے ’’اس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔
اس قسم کی روایتیں کثرت کے ساتھ ائمہ معصومین (ع)  سے منقول ہیں۔
............................................................................................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔نہج البلاغہ،خطبہ۲۳۹۔
2۔نہج البلاغہ،خطبہ۸۷۔
3۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،ج۴،ص۱۳۱۔
4۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،ج۴ ،خطبہ۹۷۔
5۔نہج البلاغہ،خطبہ۱۵۸۔
6۔اصول کافی،ج۱،ص۵۰ ،کتاب فضل العلم باب الرد الیٰ الکتاب والسنة،حدیث ۹۔
7۔اصول کافی ، ج۱،ص۱۶۶،کتاب الحجة،باب:الراسخون فی العلم، حدیث ۱۔
8۔اصول کافی،ج۱،ص۱۷۸،کتاب الحجة،باب:انھم یعلمون علم الکتاب کله،  حدیث ۴۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11