Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184611
Published : 15/12/2016 17:21

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زبانی اہل بیت(ع) کی عظمت

حضرت امام جعفر صادق(ع)اللہ کا اسم اعظم 73 حروف پر مشتمل ہے اور ان میں سے صرف ایک حرف جناب آصف ابن برخیا کے پاس تھا ،پس جیسے ہی انہوں نے اس حرف کو زبان پر جاری کیا فوراً زمین کی وہ مسافت کہ جو ان کے اور تخت بلقیس کے درمیان تھی زمین کے اندر دھنس گئی( یعنی وہ فاصلہ سمٹ گیا ) اور پھر آصف ابن برخیا نے تخت کو اپنے ہاتھ پر آٹھا لیا پھر اس کے بعد پلک جھپکنے سے پہلے زمین اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ گئی لیکن ہم آل محمد علیہم السلام کے پاس اسم اعظم کے 72 حروف کا علم ہے اور ان میں سے اور ان میں سے صرف ایک حرف ذات خداوندعالم سے مخصوص ہے کہ جو اس نے اپنے علم غیب میں چھپایا ہوا ہے۔


ولایت پورٹل:
جابر  نے امام ابو  جعفر(ع) ( امام باقر علیہ السلام ) سے اور  ابو عمر سعید  جلاب نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے، نیز ان  دونوں نے  مذکورہ دونوں اماموں( یعنی امام باقر اور امام صادق علیہما السلام ) سے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے:«بتحقیق!  اللہ کا اسم اعظم  73 حروف پر مشتمل ہے اور ان میں سے صرف ایک حرف جناب آصف ابن برخیا  کے پاس تھا ،پس جیسے ہی انہوں نے اس حرف کو زبان پر جاری کیا فوراً زمین کی وہ مسافت کہ جو ان کے اور تخت بلقیس کے درمیان تھی زمین کے اندر  دھنس گئی( یعنی وہ فاصلہ سمٹ گیا ) اور پھر آصف ابن برخیا نے تخت کو اپنے ہاتھ پر آٹھا لیا پھر اس کے بعد پلک جھپکنے سے پہلے زمین اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ گئی لیکن  ہم  آل محمد علیہم السلام کے پاس اسم اعظم کے 72 حروف کا علم ہے  اور ان میں سے  اور ان میں سے صرف ایک حرف  ذات خداوندعالم سے مخصوص ہے کہ جو اس نے اپنے علم غیب میں چھپایا ہوا ہے»۔(۱)
بیان کیا گیا ہے :کہ  جب عبداللہ ابن محمد نے زید ابن علی(ع)کے ہمراہ قیام کرنے کا ارادہ کیا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے انہیں منع فرمایا  اور  حقیقت حال سے آگاہ کیا چنانچہ انہوں نے ہر عمل کے انجام دینے سے انکار کردیا مگر  زید کے ساتھ قیام کرنے  کے علاوہ ( وہ  باز  نہ آئے ) پس آپ(ع) نے ان سے فرمایا:«خدا کی قسم ! گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ  زید کے بعد  تمہارے سر پر  اس طرح چادر اڑھا کر محمل میں بیٹھایا جائے گا  جس طرح عورتوں کو دوپٹا  اوڑھایا جاتا ہے اور تمہارے ساتھ وہی کیا جارہا ہے کہ جو عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے»۔
پس  جب  زید کے  امر  کے متعلق جو ہونا تھا ہوچکا  تو ہمارے کچھ دوستوں  نے عبداللہ ابن محمد کے لئے کچھ دینار جمع کئے  اور ان کے سر پر چادر باندھی اور ان کو  اپنے ہمراہ صحراء کی جانب لے گئے  پس وہ یہ منظر دیکھ کر  مسکرائے  لہذا انہوں( ہمارے دوستوں ) نے  ان سے سوال کیا :تمہیں کس چیز نے  ہنسایا؟
انہوں نے جواب دیا : خدا کی قسم ! مجھے تمہارے صاحب ( امام صادق علیہ السلام ) پر تعجب ہوا  چونکہ مجھے وہ  لمحہ  یاد آگیا کہ جب آپ(ع) نے مجھے قیام کرنے سے منع فرمایا تھا لیکن میں نے ان کی اطاعت نہیں کی تھی اور انہوں نے مجھے اس چیز کی خبر دی تھی کہ جس میں میں ہوں اور فرمایا تھا:«گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ  زید کے بعد  تمہارے سر پر  اس طرح چادر اڑھا کر محمل میں بیٹھایا جائے گا  جس طرح عورتوں کو دوپٹا  اوڑھایا جاتا ہے اور تمہارے ساتھ وہی کیا جارہا ہے کہ جو عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے» پس مجھے یہ یاد کرکے  تعجب ہورہا ہے۔
........................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ:
۱۔ صفار نے اپنی کتاب بصائر الدرجات ج 4 ،ص 208 : باب 13 : حدیث 1 پر اس حدیث کو جابر سے اور انہوں نے امام ابوجعفر حضرت باقر علیہ السلام سے  روایت  کیا ہے اور تقرہباً اسی مضمون کی دوسری روایت  حدیث : 6 اور  7 پر عبدالصمد سے اور انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے نیز حدیث : 8 پر اس مضمون کی ایک اور حدیث  سعد ابو عمرو جلاب نے امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے۔
نقل از:کشف الغمہ فی تعریف الآئمۃ ،محدث کبیر شیخ عیسی اربیلی رحمۃ اللہ علیہ




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11