Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185114
Published : 17/1/2017 18:50

امام خمینی(رح) کے افکار کی روشنی میں،معاشرہ میں خواتین کی اہمیت(۲)

سلامی نظام حکومت میں عورتوں کی آزادی کے سلسلہ میں «لومنڈ» نامی فرانسی مجلّہ کے نام نگار کو جواب دیتے ہوئے آپ نے واضح طورپر کہا تھا:«عورتوں کے سلسلہ میں اسلام کبھی بھی ان کی آزادی کا مخالف نہیں رہاہے اس کے برعکس اسلام عورت کے اس مفہوم کا مخالف ہے کہ اسے ایک تجارتی شئے قراردیاجائے،اسلام نے اسے شرافت وآبرو عطا کی ہے۔«عورت جو انسانی معاشرے میں کہیں ماں کہیں بہن تو کہیں بیوی کادرجہ رکھتی ہے،اسے ان رشتوں کے بندھن میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتاہے لیکن مغربی تمدن کے آزاد معاشرے نے عورت کو کیا دیا اسے بازار کی چیز بنا کر ہرمناسب ونامناسب اشتہارمیں اس کی عریاں ونیم عریاں تصاویر شائع کی جاتی ہیں اس کالباس اس سے چھین لیا۔


ولایت پورٹل:
اگرچہ مذہب اسلام نے ابتداء ہی سے خواتین کے مسائل کو بڑی سنجیدگی سے پیش کیا لیکن انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس میں اسلامی معاشرہ میں خواتین کے کردار کو دوسروں کے بجائے اپنوں سے تسلیم کروانا نہایت دشوار مرحلہ تھا لیکن امام راحل(رح) نے  مسلم اور غیر مسلم سب سے یکساں طور پرخواتین کی اہمیت منوائی اور تسلیم کروائی جو انہیں اسلام کے دامن عافیت پناہ میں نصیب ہوئی تھی اس سلسلہ کی پہلی کڑی کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
امام خمینی(رح) کے افکار کی روشنی میں،معاشرہ میں خواتین کی اہمیت(۱)
اسلامی نظام حکومت میں عورتوں کی آزادی کے سلسلہ میں «لومنڈ» نامی فرانسی مجلّہ کے نام نگار کو جواب دیتے ہوئے آپ نے واضح طورپر کہا تھا:«عورتوں کے سلسلہ میں اسلام کبھی بھی ان کی آزادی کا مخالف نہیں رہاہے اس کے برعکس اسلام عورت کے اس مفہوم کا مخالف ہے کہ اسے ایک تجارتی شئے قراردیاجائے،اسلام نے اسے شرافت وآبرو عطا کی ہے۔«عورت جو انسانی معاشرے میں کہیں ماں کہیں بہن تو کہیں بیوی کادرجہ رکھتی ہے۔ اسے ان رشتوں کے بندھن میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتاہے لیکن مغربی تمدن کے آزاد معاشرے نے عورت کو کیا دیا اسے بازار کی چیز بنا کر ہرمناسب ونامناسب اشتہارمیں اس کی عریاں ونیم عریاں تصاویر شائع کی جاتی ہیں اس کالباس اس سے چھین لیا۔
غرض کہ اسے انسانی معاشرے نے بکاؤ مال کی طرح متعارف کرایا، جب کہ اسلام نے اسے تحفظ فراہم کیا اور اسے امتیازی حیثیت دی، اسلام چاہتاہے کہ عورت بکاؤ مال نہ بنے،اسی ضمن میں امام خمینی(رح) نے 1978میں پیرس سے اپنے ایک خطاب میں کہاتھا:«اسلام چاہتا ہے کہ مرد عورت ترقی کریں،اسلام نے عورت کو عہد جاہلیت کے مسائل سے نجات دی ہے خداگواہ ہے کہ اسلام نے جس قدر عورت کی خدمت کی ہے مرد کی اس حد تک خدمت نہیں کی،آپ نہیں جانتے عہد جاہلیت میں عورت کی حیثیت کیا تھی اور اسلام نے اسے کہاں پہنچادیا، اسلام چاہتاہے کہ جس طرح مرد بنیادی امور کو انجام دیتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی ان امور کو انجام دیں البتہ یہ نہیں چاہتا کہ عورت بناؤ سنگار کرکے آئے اور مردوں کے ساتھ گھل مل جائے یاجوانوں کے ساتھ مختلط ہوجائے،اسلام اخلاقی برائیوں پر پابندی کا طالب ہے اور چاہتا ہے کہ عورت کی عزت وحیثیت محفوظ رہے اس کو شخصیت بخشے اور اس کو بکاؤ مال نہ بننے دے»۔
عصر حاضر میں بھی پردہ کے سوال پر اسلام پر طرح طرح کی الزام تراشیاں ہورہی ہیں کہیں پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیاجاتاہے تو کہیں رجعت پسندانہ رجحان سے تعبیر کیاجاتاہے جب یہی سوال امام خمینی(رح) سے «مونٹ کارلو» نے 1978میں ریڈیو کے نامہ نگار کی حیثیت سے کیا تھا تو آپ نے اپنے جواب میں کہا تھا:«پردے کے جو معنی ہمارے درمیان رائج ہیں اور جس کا نام اسلامی پردہ ہے وہ آزادی کے برخلاف نہیں ہے، اسلام اس چیز کا مخالف ہے جو عفت کے خلاف ہے ہم انہیں اسلامی پردہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں »۔
رہبر انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران نے یوم خواتین کی مناسبت سے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے 1981کی ایک تقریرمیں مزید کہاتھا:«آپ کو اس بات کی طرف متوجہ رہناچاہئے کہ اسلام نے جو آپ کے لئے پردہ قرار دیاہے تو یہ آپ کے اقدار کی حفاظت کے لئے ہے،خدا نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے چاہے وہ مردہو یا عورت وہ ان کے حقیقی اقدار کے لئے ہیں۔ ممکن ہے شیطانی وسوسے یا استعمار کے فاسد ہاتھ یا استعمار کے ایجنٹوں کے ذریعے تباہ ہوجائیں یہ انہیں زندہ کرنے کے لئے ہے۔«اسلام نے عورتوں پر احسان کیا عورتوں کو زمانہ جاہلیت کی مظلومیت سے نکالا،جاہلیت کا دور ایساتھا جب عورت کو حیوان بلکہ اس سے بھی پست سمجھا جاتا تھا دورجاہلیت میں عورت مظلوم تھی، اسلام نے عورت کو جاہلیت کی اس دلدل سے آزادکیا،قابل افسوس امریہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورت کل مظلوم تھی تو یہ دور ہی دورجہالت تھا۔ عصر حاضر کے ترقی یافتہ روشن دور میں آج اگر عورت مظلوم ہے تو اس کا ذمہ دار انسانی معاشرے کوقرار دیا جائے یا خود عورت کو کہ جس مرد نے جارحانہ رویہ اور ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھا !کر خود مظلوم بن گئی۔
chauthiduniya


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23