Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185148
Published : 19/1/2017 19:6

مولانا اعجاز حسن امروہوی،حیات اور کارنامے

اگرچہ مولانا اعجاز حسن اموہوی صاحب، علم رجال، تاریخ و حدیث میں خاص تباحر رکھتے تھے لیکن آپ نے ہر میدان علم میں خامہ فرسائی کی اور معراج القرآن فی علوم القرآن آپ کی اردو زبان میں علوم قرآن پر ایک خصوصی تصنیف ہے کہ جو آپ سے پہلے کسی اور صاحب قلم نے اس میدان کو برصغیر میں سر نہیں کیا۔


ولایت پورٹل:
مولانا سید محمد علی صاحب، رئیس امروھہ کے نامور فرزند مولانا اعجاز حسن صاحب اپنے وطن میں ۹ جمادی الاولی سن ۱۲۲۶ ہجری کو پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد مولانا سید احمد حسین صاحب متوفی ۱۳۲۸ سے امروھہ میں اور جناب مفتی محمد عباس صاحب سے خصوصی طور پر لکھنؤ میں تلمذ اختیار کیا۔
علمی قابلیت ،خاندانی ریاست ،ذاتی وجاہت پر دینداری و اخلاق و تقویٰ نے اور عظمت بخشی تھی مدتوں امروھہ میں آنریری مجسٹریٹ رہے۔
محرم ۱۳۲۰ ہجری میں فرقہ وارانہ اختلاف اور لڑائی میں مولانا نے شیعوں کی مدد کی اس دشمنی میں انہیں ذہنی جسمانی اور مالی پریشانیوں میں مبتلاء کیا گیا۔
سن ۱۲۹۷ ہجری میں حج اور ۱۳۲۱ ہجری میں ایران و عراق کی زیارات سے مشرف ہوئے۔
قلمی آثار:
آپ نے اپنی پوری زندگی مذہب اہل بیت(ع) کی خدمت اور ترویج کے لئے وقف کردی تھی لہذا آپ کے دست مبارک سے بہت بے بہا گوہر زیور تالیف و تصنیف سے آراستہ ہوئے جن میں مشہور کتب کی فہرست درج ذیل ہے:
۱۔مفاتیح المطالب فی خلافة علی ابن ابی طالب(فارسی)
۲۔کشف الخلافة
۳۔تفسیر الآیات
۴۔تنقید الاخبار و تعدیل الاخیار
۵۔تثبیت القرآن فی وجود صاحب الزمان
۶۔معارج العرفان فی علوم القرآن
۷۔الشھابة فی معرفة الصحابة
۸۔الاثابة بالاجابة فی رد فضائل الصحابة
۹۔القام الحجر فی فم ابن الحجر
۱۰۔کلمة اللہ العلیا
۱۱۔نضارۃ البصارۃ فی رؤئیة الباری تعالی
۱۲۔تاریخ اصحاب
۱۳۔معیار الفضائل(عربی و فارسی)
۱۴۔ترجمہ من لا یحضرہ الفقیه
۱۵۔تشقیق الاخبارفی رد طاعیین علی احادیث الآئمة الاطھار
۱۶۔اسئلة المعترضین و اجوبة الراشدین(عربی)
۱۷۔باد سموم بجواب خادم حسین قادیانی در تعیین قاتلان امام حسین(ع)
۱۸۔دنبالہ اہل بطالة در رد عقیدہ مفوضہ
۱۹۔سبیل المسترشدین
۲۰۔اعجاز موسوی
۲۱۔احکام طعام
۲۲۔مواہب المکاسب
۲۳۔جواہر مضئیة
۲۴۔مرقع کربلا
۲۵۔القرأۃ و الکتابة
۲۶۔احسن تقویم

وفات:
اگرچہ مولانا اعجاز حسن اموہوی صاحب، علم رجال، تاریخ و حدیث میں خاص تباحر رکھتے تھے لیکن آپ نے ہر میدان علم میں خامہ فرسائی کی اور معراج القرآن فی علوم القرآن آپ کی اردو زبان میں علوم قرآن پر ایک خصوصی تصنیف ہے کہ جو آپ سے پہلے کسی اور صاحب قلم نے اس میدان کو برصغیر میں سر نہیں کیا۔
علم و ادب،ہنر و تہذیب کا یہ سورج ۱۹ جمادی الاولی سن ۱۳۴۰ ہجری میں افق امروھہ پر ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16