Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185194
Published : 23/1/2017 18:32

مولانا اعجاز حسین کنتوری کے حالات زندگی

نوادر کتب کا ذخیرہ جمع کیا، کتب خانوں میں بیٹھ کر کتابیں نقل کیں، مسائل کی تحقیق اور حوالوں کی جمع آوری کی اور اپنے برادر بزرگوار کے معاون تحقیق رہے،حدیث و روایت،رجال و فہارس ان کا خاص موضوع تھا۔


ولایت پورٹل:
مشہور فہرست نگار و کتاب شناس مولانا سید اعجاز حسین بن مولانا مفتی محمد قلی صاحب کنتوری ۲۱ رجب سن ۱۲۴۰ ہجری کو میرٹھ میں پیدا ہوئے،اپنے والد علام اور اساتذہ لکھنؤ سے درس لیا ،تفسیر و حدیث فقہ و کلام، منطق و فلسفہ جیسے متداول علوم میں کمال حاصل کیا ،جناب سید العلماء مولانا سید حسین اور سلطان العلماء مولانا سید محمد صاحب قبلہ سے سند پائی۔
ذہانت و ذکاوت قوت حافظہ،شوق علم اور محنت ،قوت و صحت کے اوصاف جمع تھے شروع میں کمشنر دہلی ہملٹن کے رشتہ دار رہے پھر ہمہ تن خدمت علم کے لئے وقف ہوگئے۔
۱۲۸۲ ہجری میں اپنے بھائی علامہ حامد حسین صاحب کے ساتھ حج و زیارات میں شریک سفر ہوئے،اس دورے میں علماء و محققین سے ملاقاتیں کیں،شیخ عباس قمی نے لکھا ہے کہ مولانا اعجاز حسین صاحب اپنے بھائی کی طرح ہمیشہ شیعہ کاغذ سازوں کے کاغذ پر لکھتے تھے،عراق میں انھوں نے علامہ نوری طبرسی سے ملاقات کی تھی اور علامہ ان کے بہت مداح تھے۔
نوادر کتب کا ذخیرہ جمع کیا، کتب خانوں میں بیٹھ کر کتابیں نقل کیں، مسائل کی تحقیق اور حوالوں کی جمع آوری کی اور اپنے برادر بزرگوار کے معاون تحقیق رہے۔
حدیث و روایت،رجال و فہارس ان کا خاص موضوع تھا۔
چھیالیس برس کی عمر پاکر ۱۷ شوال سن ۱۲۸۶ ہجری لکھنؤ میں وفات پائی،امام باڑہ غفران مآب میں سپرد لحد ہوئے۔
قلمی آثار
۱۔شذور العقیان فی ترجمۃ الاعیان
۲۔کشف الحجب و الاستار فی اسامی الکتب و الاسفار
۳۔رسالہ  در رد جان محمد لاہوری
۴۔احوال مرزا محمد کامل دہلوی
۵۔القول السدید فی رد الرشید

مطلع انوار


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11