Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185741
Published : 16/2/2017 19:29

حوصلہ افزائی تربیت کا انوکھا انداز

بچے كى حوصلہ افزائی كرتے وقت اس كا دوسرے بچوں كے ساتھ مقایسہ نہ كریں مثلاً باپ كا اپنے بچے سے یہ كہنا اچھا نہیں ہے كہ شاباش بیٹا! تم ایک سچے بچے ہو ،حسن كى طرح جھوٹے نہیں ہو! حسن برا بچہ ہے كیوں كہ جھوٹ بولتا ہے!كیونكہ ایسا كرنے سے بچہ دوسرے بچے كو حقیر سمجھے گا ، اور یہ بھى بذات خود ایک برى تربیت ہے۔


ولایت پورٹل:
تربیت كا ایک ذریعہ بچے كے اچھے كاموں پر اس كى تعریف اور حوصلہ افزائی ہے،بچے كى حوصلہ افزائی اس كى تربیت كا بہترین اور مؤثرترین ذریعہ ہے، یہ بچے كى روح پر اثر انداز ہوتى ہے ، اور اسے اچھا بننے كى ترغیب دلاتى ہے، ہر انسان اپنى ذات سے محبت كرتا ہے اور اپنى شخصیت كى تكمیل چاہتا ہے اس كى یہ خواہش ہوتى ہے كہ دوسرے لوگ بھى اس كى شخصیت سے آگاہ ہوں ، اس كى قدر و قیمت پہنچانیں ،اور اس كا شكریہ ادا كریں،اگر اس كى حوصلہ افزائی كى جائے تو پھر اس كارجحان اچھائی كى طرف اور بڑھے گا اور وہ ترقی كے راستے پر گامزن ہوگا ،لیكن اگر اس كے برعكس اس كى حوصلہ شكنى كى گئی تو وہ نیكى اور اچھائی سے دور بھاگے گا، اس كى حوصلہ افزائی كرنے سے اچھے نتائج كے حصول كے لیے چند باتوں كى یاددھانى ضرورى ہے:
۱۔ اس كى حوصلہ افزائی كبھى كبھى اور بڑے كاموں پر كى جانى چاہیئے ،نہ یہ كہ ہمیشہ اور ہر كام پر، كیوں كہ اگر ایسا كیا گیا تو بچّے كى نظر میں حوصلہ افزائی اپنى اہمیت كھو بیٹھے گى۔
۲۔ اس كى حوصلہ افزائی كسى خاص مقام پر ہونى چاہیئے تا كہ وہ یہ سمجھ سكے كہ اس كو شاباشی كس لیے دى جارہى ہے، لہذا وہ دوسرے مقام پر بھى اسى طرح كے شائستہ طرز عمل كا مظاہرہ كرے گا،ویسے ہى عمومى طور پر اس كى حوصلہ افزائی فائدہ مند نہیں ہوسكتى مثلاً اگر بچے كو اس لیے شاباش دى جائے كہ وہ ایک اچھا اور پابند بچہ ہے۔
تو یہ حوصلہ افزائی كسى كامل نتیجے كى حامل نہیں ہوگى، اچھے بچے كو یہ معلوم نہیں ہوسكے گا كہ اس كو كیوں شاباش دى جارہى ہے۔
۳۔ یہ بھى ضرورى ہے كہ بچے كے اچھے كام یا اخلاق كى تعریف كرنا چاہیئے نہ كہ خود بچے كى تا كہ وہ یہ بات اچھى طرح سمجھ سكے كہ اہمیت اچھے كام كى ہے نہ كہ كسى شخص كى، اور ہر آدمى كى اہمیت اس كے اچھے كام كى وجہ سے ہوتی ہے۔
۴۔بچے كى حوصلہ افزائی كرتے وقت اس كا دوسرے بچوں كے ساتھ مقایسہ نہ كریں مثلاً باپ كا اپنے بچے سے یہ كہنا اچھا نہیں ہے كہ شاباش بیٹا! تم ایک سچے بچے ہو ،حسن كى طرح جھوٹے نہیں ہو! حسن برا بچہ ہے كیوں كہ جھوٹ بولتا ہے!كیونكہ ایسا كرنے سے بچہ دوسرے بچے كو حقیر سمجھے گا ، اور یہ بھى بذات خود ایک برى تربیت ہے۔
۵۔ شاباش اور حوصلہ افزائی حد سے تجاوز نہیں كرنى چاہیئے كیونكہ ممكن ہے اس سے بچہ معزور اور متکبر بن جائے ۔
امیر المؤمنین حضرت على علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
بہت سے لوگ اس تعریف كى وجہ سے معزور ہوجاتے ہیں جو ان كى شان میں كى جاتى ہے ۔
ایک دوسرے مقام پر حضرت امیر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: كسى كى تعریف و تمجید میں زیادہ روى اور مبالغہ نہ كرو ۔
تبیان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12