Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185805
Published : 20/2/2017 16:54

ایک شاباش جو زندگی بدل دے

اپنے استاد کى ان شفقت بھرے کلمات نے مجھے بہت حوصلہ دیا اور مجھ میں پڑھنے کا اتنا شوق پیدا ہوا کہ میں نے یہ مصمم ارادہ کرلیا کہ اب میں اپنی کمزوری کو دور کروں گا،اور جو کچھ ابھی تک مجھے یاد نہیں ہوسکا اس کو یاد کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا،لہذا میں نے خوب محنت کی ،یہاں تک کہ سال پورا ہوتے ہوتے میں بہترین انداز میں قرآن مجید پڑھنے لگا،یہاں تک کہ کبھى کبھى جب مولوی صاحب مکتب میں نہیں ہوتے تو میں ان کی جگہ کلاس کو پڑھاتا تھا۔


ولایت پورٹل:
ہم نے تربیت اولاد کے حوالہ سے مسلسل دو دن حوصلہ افزائی اور انعام کی اہمیت پر کچھ معروضات قارئین کرام کی خدمت میں پیش کئے آج اسی سلسلہ کی یہ آخری کڑی پیش خدمت ہے لہذا اس سے پہلے کے کالمس پڑھنے کے لئے درج ذیل لنکس پر کلک کیجئے!
حوصلہ افزائی تربیت کا انوکھا انداز
انعام یا رشوت!!! 
ایک صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں:چھوتھى کلاس سے مجھے ایک دینى مدرسہ میں داخل کروا دیاگیا،میں قرآن کا سبق یاد کرنے میں بہت پچھے تھا یہاں تک کہ مجھے قران کا ایک کلمہ بھى یادنہیں تھا لیکن میرے ساتھی بہت اچھى طرح قرآن پڑھتے تھے،قرآن کے پہلے پیڑیڈ میں ہى ہمارے مولوی صاحب نے خندہ پیشانى کے ساتھ مجھ سے پوچھا کیا تم قرآن پڑھ لیتے ہو؟میں نے پریشان ہوکر کہا نہیں،تو انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں،میں تمہیں سبق دوں گا اور مجھے معلوم ہے کہ تم کلاس کے لائق ترین بچے بن جاؤگے،جو کچھ بھى تمہارا دل چاہے مجھے سے پوچھ لیا کرو۔
اپنے استاد کى ان شفقت بھرے کلمات نے مجھے بہت حوصلہ دیا اور مجھ میں پڑھنے کا اتنا شوق پیدا ہوا کہ میں نے  یہ مصمم ارادہ کرلیا کہ اب میں اپنی کمزوری کو دور کروں گا،اور جو کچھ  ابھی تک مجھے یاد نہیں ہوسکا اس کو یاد کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا،لہذا میں نے خوب محنت کی ،یہاں تک کہ سال پورا ہوتے ہوتے میں بہترین انداز میں قرآن مجید پڑھنے لگا،یہاں تک کہ کبھى کبھى جب مولوی صاحب مکتب میں نہیں ہوتے تو میں ان کی جگہ کلاس کو پڑھاتا تھا۔
ایک لڑکى اپنى یاد داشتوں میں تحریر کرتى ہے:میرے والد ایک روشن خیال شخص تھے،ایک دن میرى ماں کى غیر موجودگى میں انہوں نے میرے چند اساتذہ کى دعوت کردى،کھانے پینے کا سامان لاکر میرے سپردکردیا گیا ،میں نے بھى خوشى خوشى کھانا پکانا شروع کردیا، دو پہر کو میرے ابو مہمانوں کو اپنے ساتھ لے آئے، جب میں نے کھانا ڈشوں میں نکالا تو معلوم ہوا کہ یہ تو اچھى طرح پکاہى نہیں ہے، مرغ بھى کچھا تھا اور چاول بھى خراب ہوچکے تھے، چونکہ مجھے کھانا پکانے کا طریقہ نہیں آتا تھا، لہذ میں بہت غمگین تھى، اور کسى متوقع ڈانٹ ڈپٹ کى منتظر،لیکن میرى توقع کے برخلاف میرے والد نے مہمانوں کے سامنے تعریف کى اور کہا یہ کھانا میرى بیٹى نے پکایا ہے اور کتنا لذیذ پکایا ہے ،مہمانوں نے بھى ان کى تائید کى،اور میرى سلیقہ شعارى کى تعریف کى،بعد میں باپ نے بھى مجھے شاباشی دى، اپنے باپ کى حوصلہ افزائی سے میں کھانے پکانے کے امور کى طرف متوجہ ہوئی اور اب میں مزیدار قسم کے کھانے پکانے اور دستر خوان کے باقى لوازمات میں پورى طرح ماہر ہو چکى ہوں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11