Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186107
Published : 8/3/2017 18:13

بیوی پر شوہر کے حقوق:

اپنے شوہر میں عیب مت نکالئے

ہر مرد اور عورت کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ ایک آئیڈیل شریک حیات سے شادی کرے کہ جو ہر عیب اور نقص سے پاک ہو اور اس میں کوئی چھوٹی سی بھی کمی نہ پائی جائے لیکن ایسا بہت ہی کم پیش آتا ہے کہ کسی کو اپنا مطلوب نظر شریک حیات مل جائے ۔


ولایت پورٹل:
بنی نوع بشر (معصومین علیہم السلام کو چھوڑ کر )میں سے کوئی ایک بھی عیب سے خالی نہیں ہوتا  کوئی پستہ قد ہے تو کوئی بہت ہی لمبا ، کوئی کالا ہے تو کوئی پژمردہ ، کوئی موٹا ہے تو کوئی بہت ہی کمزور کسی کا منھ بڑا ہے تو کسی کی آنکھیں چھوٹی، کسی کی  ناک بڑی ہے تو کسی کا سر گنجا ، کوئی تند مزاج ہے تو کوئی ڈر پوک ،کوئی کم سخن ہے تو کوئی بہت ہی بڑ بولا ، کسی کے منھ سے بدبو آتی ہے تو کسی کے پیر بدبودار ، کوئی بیمار ہے تو کوئی پر خور ، کوئی غریب ہے تو کوئی کنجوس ، کوئی زندگی کے اصولوں سے نا آشنا تو کوئی بدزبانی میں ماہر ، کوئی گندگی کا دلدادہ تو کوئی بے ادب  و بد تہذیب ، غرض اس طرح کے  عیب ہر مرد اور عورت میں پائے جاتے ہیں۔
ہر مرد اور عورت کی  یہ تمنا  ہوتی ہے  کہ وہ  ایک آئیڈیل شریک حیات  سے  شادی کرے کہ جو ہر عیب اور نقص سے پاک ہو اور اس میں  کوئی چھوٹی سی بھی کمی نہ پائی جائے لیکن ایسا بہت ہی کم پیش آتا ہے  کہ  کسی کو اپنا مطلوب نظر شریک حیات مل جائے ۔
وه خواتین کہ  جو عیب نکالنےکے فراق میں ہوتی ہیں وه خواه مخواه کوئی  عیب یا کچھ  عیوب، اپنے شوہروں میں نکال ہی  لیتی ہیں ،ایک چھوٹی سی اور بے اہمیت چیز کو بھی عیب شمار کرتی ہیں  ، اور اس کو اپنی نظروں  میں مجسم  بنا کر اس کے بارے میں اتنی فکر کرتی ہیں کہ آہستہ آہستہ وہ ایک بڑے، اور ناقابل برداشت عیب کی صورت اختیار کرجاتی ہے ، لہذا وہ اپنے شوہروں کی خوبیوں کو نظرانداز کرکے ہمیشہ اسی چھوٹے سے عیب کا ماتم کرتی  ہیں ، اور ان کی آنکھیں جس مرد کی طرف بھی اٹھتی ہیں تو وہ اس میں  بھی اسی عیب کو ڈھونڈتی ہیں کہ کیا اس مرد میں بھی وہ عیب پایا جاتا ہے یا نہیں  جو اس کے شوہر میں ہے؟ اور ایسے آئیڈیل مرد کی خیالی تصویر اپنے ذہن میں پروان چڑھاتی ہیں  جس میں کوئی عیب نہ پایا جائے ، اور چونکہ ان کے  شوہر ان کی خیالی تصویر سے مطابقت نہیں رکھتے تو ہمیشہ آه وزاری کرتی  ہیں ، اپنی شادی سے پشیمانی کا اظهار کرتی ہیں اور  خود کو ناکام اور بد نصیب سمجھتی ہیں ، اور اس طرح  سب کے سامنے اپنے شوہروں میں عیب نکالنے لگتی ہیں ،چنانچہ کبھی تو  اس پر  اعتراض  کرتی ہیں اور کبھی طعن و تشنیع ، کبھی فضول بڑبڑاتی ہیں تو کبھی بہانہ تلاش کرتی ہیں اور کہتی ہیں :تم معاشرتی اصول اور طور طریقوں سے ناواقف ہو ، مجھے تمہارے ساتھ کسی محفل یا تقریب میں شرکت کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے ،تمهاری شکل کتنی بری اور کالی ہے ، وغیرہ وغیرہ
ممکن ہے کہ  مردسمجھدار  اور بردبار ہو  تو  عورت کی ان  بی ادبیوں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کرجائےلیکن اس کا دل تو نفرت اور کدورت سے بھر جائے گا ، اور آخرکار ایک دن اسکے  صبر کا پیمانہ  لبریز ہوجائے گا اور وہ اس  سے انتقام لینے کے فراق میں ہوگا  ، اور اس کے لئے وہ یا تو مار پیٹ پر اتر آئے گا یا اسی کی طرح عیب تلاش کرنے لگے گا  چونکہ  اس کی بیوی میں بھی کوئی نہ کوئی ایک عیب تو ضرور ہی ہوگا اور اسی عیب نکالنے کے سبب ان کے درمیان باقی ماندہ محبت بھی رخت سفر باندھ کر آمادہ کوچ ہوجائے گی ، اب ان کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہوجائے گا ، اور  اب  ان کو ان  دو راستوں میں سے کسی  ایک  کا انتخاب کرنا پڑے گا پہلا  تو یہ کہ وہ دونوں  اسی طرح عذاب بھری زندگی گذارتے رہیں  یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک مرجائے تاکہ دوسرے کو سکون مل سکے ، دوسرے یہ کہ عدالت میں جاکر ایک بہت بڑے نقصان کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے طلاق لے کر جدا ہوجائے لیکن ابھی بھی معلوم نہیں کہ آئندہ  ان میں سے کسی کو اچھا شریک حیات مل پائے گا یا نہیں ؟
بعض نادان اور ضدی خواتین کے شر سے تو اللہ ہی بچائے!وہ بہت ہی معمولی معمولی سی چیزوں  پر ہٹ دھرمی اور ضد کرنے کی خاطر اپنی شادی شدہ زندگی کو بھی  تباه وبرباد  کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہیں۔
جاری ہے۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11