Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186557
Published : 8/4/2017 18:41

علامہ مجلسی کی سوانح حیات

علامہ مجلسی من جملہ ان بزرگوں میں سے ہیں جو ایک جامعیت کے مالک تھے۔ وہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، تاریخ، رجال اور درایہ جیسے اسلامی علوم میں اپنے زمانہ کے ممتاز عالم تھے، ان کی شہرہ آفاق کتاب «بحار الانوار» پر ایک اجمالی نظر ڈالنے سے یہ حقیقت ظاہر ھوتی ہے،مذکورہ علوم کے علاوہ، فلسفہ، منطق، ریاضیات، ادبیات، لغت، جغرافیہ، طبابت، نجوم اور علوم غریبہ جیسے علوم میں بھی وہ یدِطولیٰ رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت بےمثال بن گئی ہے۔


ولایت پورٹل:
محمد باقر بن محمد تقی بن مقصود علی مجلسی، جو «علامہ مجلسی» اور «مجلسی ثانی» کے نام سے مشہور تھے، سنہ 1038 ہجری میں شہر اصفہان میں پیدا ھوئے ہیں، علامہ مجلسی کا خاندان حالیہ صدیوں کے دوران شیعوں کے قابل فخر خاندانوں میں سے ایک خاندان ہے،اس خاندان میں تقریباً ایک سو نامور علماء اور دانشور پیدا ھوئے ہیں، علامہ مجلسی کے جد بزرگ، ابو نعیم اصفہانی کے نام سے ایک بڑے عالم اور «تاریخ اصفہان» اور «حلیتہ الاولیاء» جیسی متعدد کتابوں کے مؤلف ہیں۔علامہ کے والد، محمد تقی مجلسی، «مجلسی اول» (۱۰۰۳- ۱۰۷۰ھ) کے نام سے مشہور اور صاحب کرامات اور معنوی مقامات کے مالک تھے۔ وہ ایک بڑے محدث اور فقیہ تھے اور کئی کتابوں کے مولف ہیں۔محمد تقی مجلسی (علامہ کے والد)، شیخ بھائی اور میر داماد کے شاگرد تھے، وہ مختلف اسلامی علوم میں صاحب نظر تھے اور اپنے زمانہ کے مرجع تقلید تھے، مجلسی اول، مرجعیت کے ساتھ ساتھ نماز جمعہ و جماعت قائم کرنے میں بھی کوتاہی نہیں کرتے تھے اور اصفہان کے امام جمعہ بھی تھے۔
علمی مقام و منزلت
علامہ مجلسی من جملہ ان بزرگوں میں سے ہیں جو ایک جامعیت کے مالک تھے۔ وہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، تاریخ، رجال اور درایہ جیسے اسلامی علوم میں اپنے زمانہ کے ممتاز عالم تھے، ان کی شہرہ آفاق کتاب «بحار الانوار» پر ایک اجمالی نظر ڈالنے سے یہ حقیقت ظاہر ھوتی ہے،مذکورہ علوم کے علاوہ، فلسفہ، منطق، ریاضیات، ادبیات، لغت، جغرافیہ، طبابت، نجوم اور علوم غریبہ جیسے علوم میں بھی وہ یدِطولیٰ رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت بےمثال بن گئی ہے۔
ان کی کتاب بحارالانوار میں«کتاب السماء و العالم» پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ان کی جامعیت معلوم ھوتی ہے۔علامہ، مشکل روایات کے بارے میں بہت ہی خوبصورت انداز میں نکتہ بین تھے۔ آیات و روایات کے ذیل میں علامہ کے بیانات کافی دقیق اور زیبا ہیں۔علامہ مجلسی کو روایات اہل بیت (ع) کے علوم کے مانند فقہ میں بھی کمال حاصل تھا۔
معنوی شخصیت:
دینی علماء، اپنے استادوں سے صرف علم و دانش کا سبق نہیں سیکھتے ہیں، بلکہ اپنے عارف اساتذہ کے زیر نظر معنوی سیر و سلوک کا سفر بھی طے کرتے ہیں۔ علامہ مجلسی نے اپنے علمی مدراج طے کرنے کے ضمن میں ان سے تیز تر رفتار میں معنوی کمالات کے مدارج بھی طے کئے تھے، کہ یہ دعویٰ، ان کی اخلاقی سیرت پر نظر ڈالنے سے واضح طور پر ثابت ھوتا ہے۔ علامہ کی اخلاقی خصلتوں میں سے بعض کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:
1۔ زیارت: علامہ ائمہ اطہار (ع) کی زیارتوں کو کافی اہمیت دیتے تھے اور مسافرت کے لئے اس زمانہ میں ابتدائی وسائل فراہم نہ ھونے کی مشکلات کے باوجود کئی بار زیارت کے لئے عراق، بقیع اور مشہد مقدس کا سفر کیا ہے۔ اور ہر بار ایک طولانی مدت تک ان مقدس مقامات پر سکونت کرتے تھے۔ وہ کئی بار زیارت خانہ خدا سے شرفیاب ھوئے ہیں۔
2۔ توسل: معصومین علیہم السلام کی طرف خاص توجہ، اس امر کا سبب بنا ہے کہ علامہ مجلسی نے ادعیہ اور زیارات کے بارے میں بہت سے مطالب، بحارالانوار میں لائے ہیں اور ان کے علاوہ، کئی مستقل کتابیں بھی ادعیہ اور زیارات کے موضوع پر تالیف کی ہیں، من جملہ: «زاد المعاد»، متاخر دعا کی کتابوں میں ایک اہم مرجع ہے۔ «تحفۃ الزائر»، زیارت جامعہ کبیرہ اور دعائے سمات وغیرہ کے ترجمے قابل ذکر ہیں۔
3۔ زہد و تقویٰ: اس عظیم شخصیت کی زندگی میں ایک خاص امتیاز، ان کا زہد و تقویٰ اور سادہ زندگی بسر کرنا ہے۔ باوجودیکہ وہ صفوی دور میں زندگی بسر کرتے تھے، اور صفوی حکومت کی طرف سے انھیں” شیخ الاسلام” کا خطاب ملا تھا، مختصر یہ کہ تمام حکومتی امکانات ان کے اختیار میں تھے، لیکن پھر بھی وہ اپنی ذاتی زندگی نہایت سادگی اور زہد و تقویٰ میں گزارتے تھے۔
4۔ تواضع: علامہ مجلسی کی دوسری امتیازات میں، تواضع اور انکساری تھی۔ علامہ کبھی کسی فرد کے بارے میں اس کے سماجی مقام و منزلت، اس کی حیثیت کے بالا یا پائین ھونے یا اس کی عمر کو نہیں دیکھتے تھے۔ انھوں نے، صحیفہ سجادیہ کے گراں قدر شارح سید علی خان مدنی کے بارے میں بحارالانوار میں بہت سے مطالب ذکر کئے ہیں، جبکہ سید علی خان علامہ سے پندرہ سال چھوٹے تھے اور سماجی مقام و منزلت کے لحاظ سے بھی ان کے برابر نہیں تھے۔مختصر یہ کہ ان تمام خصوصیات کا علامہ کے معنوی کمالات سے جمع ھونا اسے ایک ممتاز شخصیت میں تبدیل کرنے کا سبب بنے تھے۔
علامہ کے شاگرد:
ایک ہزار سے زائد طلبہ اور محقیقین علامہ مجلسی کے علمی کمالات سے فیضیاب ھوئے ہیں۔ علامہ نے اپنے شاگردوں کو بہت سے اجازت نامے دیئے ہیں۔
علامہ کے شاگردوں میں حسب ذیل افراد بھی شامل ہیں:
۱۔ سید نعمت اللہ جزائری ۲۔ جعفر بن عبداللہ کمرہ ای اصفہانی ۳۔ زین العابدین بن شیخ حرعاملی ۴۔ سلیمان بن عبداللہ ماجوزی ۵۔ شیخ عبدالرزاق گیلانی ۶۔ عبدالرضا کاشانی ۷۔ محمد باقر بیابانکی ۸۔ میرزا عبداللہ افندی اصفہانی، ” ریاض العلماء” کے مولف ۹۔ سید علی خان مدنی، ” ریاض السالکین” (شرح صحیفہ سجادیہ) کے مولف ۱۰ ۔ شیخ حرعاملی ۱۱۔ ملا سیما، محمد بن اسماعیل فسایی شیرازی ۱۲۔ محمد بن حسن، فاضل ہندی وغیرہ
علامہ کی تالیفات:
علامہ مجلسی کی ایک طولانی اور با برکت عمر تھی۔ انھوں نے 37 سال کی عمر میں ایک سو سے زائد فارسی اور عربی کتابیں تالیف کی ہیں، ان میں سے صرف «بحار الانوار» نام کی ایک کتاب 110 جلدوں پر مشتمل اور «مراۃ العقول» نامی کتاب 24 جلدوں پر مشتمل ہے۔
اس کے علاوہ تقریبا 40 کتابوں کو ان سے نسبت دی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ کی سب سے پہلی تالیف «کتاب الاوزان و المقادیر» یا «میزان المقادیر»ہے، جو سنہ 1043ھ میں تالیف کی گئی ہیں۔ ان کی آخری تالیف «حق الیقین» ہے اور یہ کتاب 1109ھ سے متعلق ہے، یعنی وفات سے ایک سال قبل۔
علامہ کی بعض کتابیں حسب ذیل ہیں:
1۔ بحارالانوار: یہ روایات اور تاریخ پر مشتمل ایک عظیم مجموعہ ہے اور اس کے ضمن میں قرآن مجید کی بہت سی آیتوں کی تفسیر بھی آئی ہے۔
2۔ مراۃ العقول:ثقہ الاسلام کلینی کی کافی کی شرح ہے، جو 24 جلدوں پر مشتمل ہے۔
3۔ملاذ الاخبار:شیخ طوسی کی تہذیب کی شرح ہے، جو 14جلدوں پر مشتمل ہے۔
4۔  الفرائد الطریقة: صحیفہ سجادیہ کی شرح ہے۔
5۔شرح اربعین حدیث، کہ اس موضوع پر بہترین کتاب ہے۔
6۔حق الیقین: یہ اعتقادات کی کتاب ہے اور فارسی میں لکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ علامہ کی کئی کلامی کتابیں بھی ہیں۔
7۔زاد المعاد:اعمال و ادعیہ پر مشتمل ہے۔
8۔ تحفۃ الزائر: زیارات پر مشتمل ہے۔
9۔عین الحیاۃ: آیات اور معصومین (ع) کی روایتوں پر مشتمل
موعظے اور احکام سے متعلق ہے۔
10۔ صراۃ النجاۃ۔
11۔حلیة المتقین:پوری زندگی میں روزانہ آداب اور مستحبات پر مشتمل ہے۔
12۔حیاۃ القلوب:انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی تاریخ پر مشتمل ہے اور یہ کتاب تین جلدوں میں ہے۔
13۔مشکاۃ الانوار: حیات القلوب کا خلاصہ ہے۔
14۔جلاء العیون: تاریخ اور مصائب اہل بیت (ع) پر مشتمل ہے۔
15۔توقیعات امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف:ان کے ترجموں کے ساتھ ۔
16۔ ترجمہ حدیث توحید مفضل کے مانند بہت سی احادیث کے ترجموں کے عنوان سے بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں۔
علامہ مجلسی کی تالیفات میں اہم نکتہ یہ ہے کہ ان کی اکثر تالیفات فارسی زبان میں ہیں اور یہ نکتہ علامہ کے اپنے معاشرہ کی طرف توجہ دینے کی نشانی ہے کہ ان کا معاشرہ فارسی زبان تھا۔ (اگر چہ«بحار الانوار» اور «مراۃ العقول» جیسی اہم کتابیں عربی میں ہیں)
وفات:
علامہ مجلسی، 73 سال کی با برکت عمر گزارنے کے بعد 27 رمضان المبارک 1110ھ کو شہر اصفہان میں رحلت کر کے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11