Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186733
Published : 17/4/2017 18:27

مولانا محمد سبطین سرسوی

قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل زیارات مشاہد مقدسہ کے لئے عراق تشریف لے گئےاور ۱۹ رمضان سن ۱۳۶۶ ہجری مطابق ۷ اگست سن ۱۹۴۷ ء صبح آٹھ بجے کربلا معلی میں رحلت فرما گئےاور رواق حرم حضرت سید الشہداء(ع) میں سپرد خاک ہوئے،مولانا کی قیمتی کتب اور تصانیف سن ۴۷ کے فسادات کی نذر ہوگئے اور ان کی اولاد سب کچھ چھوڑ کر پاکستان چلی گئی۔

ولایت پورٹل:علامۃ الزمن مولانا سید محمد سبطین صاحب کا وطن تو سرسی ضلع مرادآباد یوپی تھا مگر ان کی عزت و اقبال کا آفتاب پنجاب میں چمکا،مولانا نے مدرسہ منصبیہ میرٹھ میں تعلیم پائی اور سن ۱۹۰۸ ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل پاس کیا،مولانا محمد سبطین نے مولوی فاضل پاس کرنے کے بعد پنجاب کے اسکولوں میں عربی فارسی کے مدرس کی حیثیت سے ملازمت کرلی،مہندرا کالج پٹیالہ اور گورنمنٹ کالج لودھیانہ میں بڑی عزت سے تعلیم پائی۔
مولانا سبطین صاحب بچپن سے ذہین و ذکی ادیب و خطیب تھے،مضمون نگاری کا شوق اور تبلیغ دین کا شوق کا فراوان رکھتے تھے۔
مولانا عبد العلی ہروی ،قرآن مجید کے عالم و فلسفی تھے،مولانا محمد سبطین صاحب ان کے خاص الخاص ترجمان و شاگرد بنے۔
قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل زیارات مشاہد مقدسہ کے لئے عراق تشریف لے گئےاور ۱۹ رمضان سن ۱۳۶۶ ہجری مطابق ۷ اگست سن ۱۹۴۷ ء صبح آٹھ بجے کربلا معلی میں رحلت فرما گئےاور رواق حرم حضرت سید الشہداء(ع)  میں سپرد خاک ہوئے،مولانا کی قیمتی کتب اور تصانیف سن ۴۷ کے فسادات کی نذر ہوگئے اور ان کی اولاد سب کچھ چھوڑ کر پاکستان چلی گئی۔
قلمی آثار
۱۔پیغام توحید
۲۔دینیات برائے اطفال
۳۔اسلامی نماز
۴۔خلافت الھیہ
۵۔مصحف ناطق
۶۔ترجمہ کوکب دری
۷۔صراط السوی فی احوال المھدی
۸۔مواعظ حسنہ
نوٹ:مذکورہ کتب اس وقت متعدد لائبریریز میں موجود ہے ،اس علاوہ آپ سینکڑوں مقالات و مضامین جو ماہنامہ البرھان اور دوسرے جرائد میں شائع ہوچکے اور متعدد تالیفات جو ضائع ہوگئے۔

مطلع انوار


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11