Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187000
Published : 1/5/2017 15:40

مدرسہ،اسلامی ثقافت کا عظیم گہوارہ

اس وسیع دائرہ کے تحت مدرسہ ان اہم ترین پلوں میں سے ایک ہے جو دینی وراثت کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے، بعض نسلوں کو بعض دوسری نسلوں سے جوڑنے اور اسی طرح ترقی یافتہ نسل کو پست اور پسماندہ نسل سے جوڑ کر ان میں آپس میں میل ملاپ کی ذمہ داری کا حامل ہے۔

ولایت پورٹل:مدرسہ سے مراد وہ دینی مراکز، وسائل اور ذرائع تبلیغ ہیں،جو انسان کی زندگی کے مختلف مراحل میں لوگوں کی دینی تحریک اور جوانوں کو تعلیم دینے کا واحد وسلیہ اور ذریعہ ہیں اور اس کا میدان بہت وسیع ہے ،مدرسہ، کتاب اور جوانوں کی تعلیم کے لئے مختلف طریقۂ کار، تعلیم دینے والے افراد اور مدرسین، دینی ومذہبی نیز ثقافتی و تربیتی کو ششیں،رسم الخط، (طرز تحریر) زبان، مذہب، تبلیغات، اور اخبارات وغیرہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔
اس وسیع دائرہ کے تحت مدرسہ ان اہم ترین پلوں میں سے ایک ہے جو دینی وراثت کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے، بعض نسلوں کو بعض دوسری نسلوں سے جوڑنے اور اسی طرح ترقی یافتہ نسل کو پست اور پسماندہ نسل سے جوڑ کر ان میں آپس میں میل ملاپ کی ذمہ داری کا حامل ہے۔
چنانچہ یہ (مدرسہ) تمام لوگوں کی پہلی اور ابتدائی تعلیم گاہ، گھرہی میں سمٹ جاتی ہے، اور ہر انسان اپنی ابتدائی تعلیم کو گھر ہی سے حاصل کرنا شروع کرتا ہے، اس لئے بلا شک و شبہہ دوسرے درجہ میں، یعنی اس کی تعلیمات کا دوسرا مرکز مدرسہ اور اسکول (School) ہے، جہاں اس کی عقل میں نکھا رآتا ہے۔
اسلامی قوانین اور اس کے دستورمیں استاد کی عظمت و منزلت اور اس کے احترام کے بارے میں بہت زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے، ہمارے اور آپ کے پانچویں امام حضرت امام محمد باقر(ع) نے رسول خدا(ص) سے نقل کرتے ہوئے فرمایا:«اِنَّ مُعَلِّمَ الْخَیْرِ یَسْتْغْفِرُ لَهُ دَوَابُّ اَلْاَرْضِ وَحِیْتَانُ الَبَحْرِ وَکُلُّ ذِی رُوحٍ فِی الْهَوَاِء وَجَمِیْعُ اَهلِ السَّمَاء وَاَلْاَرْضِ»۔(۱)
ترجمہ:جو استاد نیکیوں کی تعلیم دیتاہے، اس کے لئے زمین پر تمام بسنے،چلنے اور رینگنے والے، دریا کی مچھلیاں، ہوا اور فضا میں زندگی بسر کرنے والے ، اسی طرح زمین و آسمان میں بسنے والی (خداوند عالم کی) تمام مخلوق اس استاد (اور معلم)کے لئے استغفار کرتی ہیں۔
امام صادق (ع) نے بھی ارشاد فرمایا:مَنْ عَلَّمَ خَیْراً فَلَهُ بِمِثْلِ اَجْرِ َمنْ عَمِلَ بِهٖ۔ قُلْتُ:فَأِنْ عَلَّمَهُ غَیْرُہُ یَجْرِی ذَلِکَ لَهُ؟ قَالَ (ع) اِنْ عَلَّمَ النَّاسَ کُلَّهُمْ جَریٰ لَهُ قُلْتُ: وَاِنْ مَاتَ؟ قَالَ(ع):وَاِنْ مَاتَ»۔(۲)
ترجمہ:ہر وہ شخص جو خیر کی تعلیم دے، اس کا اجر اس شخص کے جیسا ہے جس نے اس پر عمل کیا ہو۔ راوی نے سوال کیا:اگروہ شخص جس نے اس(استاد)سے براہ راست تعلیم حاصل کی ہو اور بعد میں دوسرے شخص کو تعلیم دے تو اس کا اجر کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: اگر دوسرا فرد ( یعنی سیکھ کر سکھانے والا)زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دے دے، پھر بھی سکھانے والے پہلے استاد کے اجرمیں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ راوی نے پھرسوال کیا: اگر پہلے والا استاد دنیا سے اٹھ چکا ہو توکیا ہوگا؟ توحضرت نے (اس سوال کے جواب میں) فرمایا: پھر بھی اس کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی اور اس کو (یعنی پہلے والے استاد اور معلم کو )وہی اجر دیا جائے گا۔
حضرت امام صادق(ع) نے رسول خدا(ص) سے یوں نقل فرمایا:«یَجِیُٔ الرَّجُلُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَالسَّحَابِ الرُّکَامِ اَوْ کَالْجِبَالِ الرَّوَاسِی،فَیَقُولُ:یَارَبِّ اَنّٰی لِی هٰذا وَلَمْ اَعْمِلْهَا؟فَیَقُولُ:هٰذا عِلْمُکَ الَّذِی عَلَّمْتَهٗ النَّاسَ یُعْمَلُ بِهٖ بَعْدَکَ»۔(۳)
ترجمہ:قیامت کے دن ایک شخص عرصہ حساب میں لایا جائے گا، اس عالم میں کہ اس کی نیکیاں بادلوں کی طرح آفاق میں پھیلی اورمستحکم پہاڑوں کی طرح استوار ہوں گی،وہ شخص آتے ہی ( یہ سب نیکیاں دیکھنے کے بعد) بڑی حیرت اور بے چینی سے بول پڑے گا:ائے میرے پروردگار!اور ائے میرے پالن ہار! میں کہاں؟ اور اتنی ساری نیکیاں کہاں؟میں نے ان سب نیکیوں کو ہرگز انجام نہیں دیا۔ خدایا ! یہ میرے اعمال نہیں ہیں،میں نے ان تمام اعمال کو انجام نہیں دیا تو اسے بتایا جائے گا:کہ یہ وہی علم ہے جس کو تونے لوگوں کو سکھایا ہے اور انہوں نے تیرے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد اس پر عمل کیا ہے۔
عبدالرحمن سَلَمیِ نے حضرت ابا عبد اللہ امام حسین (ع) کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے کو سورۂ حمد کی تعلیم دی،جب اس بچے نے سورہ حمد کو اپنے والد گرامی(حضرت امام حسین) کے حضور تلاوت کی تو امام نے بہت سارا مال زیورات اور گہنے اپنے بیٹے کے معلم کو بخش دیئے اور اس (معلم) کے منھ کو موتیوں سے بھر دیا،جب آپ سے اس کے بارے میں پوچھاگیا تو آپ نے فرمایا:مال اور زیورات کی اتنی تھوڑی سی مقدار اس(استاد) کے تعلیم دینے کی اجرت کے برابر ہرگز قرار نہیں پا سکتی!۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ بحار الانوار ج ۲، ص ۱۷۔
۲۔بحار الانوار ج ۲، ص ۱۷۔    
۳۔بحار الانوار ج ۲، ص ۱۸۔
۴۔المناقب ابن شہرآشوب،مطبوعہ نجف اشرف،ج۳، ص۲۲۲، مستدرک الوسائل،ج ۱ ،ص ۲۹۔

 
    
 


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11