Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187041
Published : 2/5/2017 17:24

علامہ احمد حسین خان نواب پریانواں

موصوف کا قیمتی کتب خانہ ان کے فرزند نے ان کے انتقال کے بعد کتب خانہ ناصریہ لکھنؤ کو ہدیہ کردیا ،جناب نواب احمد حسین خان شعر و ادب سے بھی کافی شغف رکھتے تھے،حافظ کا دیوان حفظ تھا اور خود بھی شعر کہتے تھے،مذاق تخلص تھا اور میر مینائی کے شاگرد تھے نیز اکبر الہ آبادی سے قرابت تھی۔

ولایت پورٹل:رائے بریلی کے قریب پریانواں نامی ایک قصبہ کے رئیس و زمیندار،شیخ احمد حسین صاحب علوم اسلامیہ کے فارغ التحصیل سنی فاضل تھے،مطالعہ و تحقیق کے بعد شیعہ مذہب اختیار کیا  اور تاریخ و فقہ و عقائد پر بہت اہم کتابیں تحریر فرمائیں اور فکر انگیز مسائل پر بحث کی،فقہ میں تقابلی مطالعہ ،فہرست کتب و مصنفین وغیرہ پر آپ کی تالیفات بہت وقیع ہیں،موصوف کا قیمتی کتب خانہ ان کے فرزند نے ان کے انتقال کے بعد کتب خانہ ناصریہ لکھنؤ کو ہدیہ کردیا ،جناب نواب احمد حسین خان  شعر و ادب سے بھی کافی شغف رکھتے تھے،حافظ کا دیوان حفظ تھا اور خود بھی شعر کہتے تھے،مذاق تخلص تھا اور میر مینائی کے شاگرد تھے نیز اکبر الہ آبادی سے قرابت تھی۔
وفات
آپ نے سن ۱۳۵۷ ہجری مطابق ۱۹۴۶ء میں رحلت فرمائی۔
قلمی آثار
۱۔آیات بینات
۲۔تفسیر آیات
۳۔فضائل امیر المؤمنین(ع)
۴۔تاریخ احمدی
۵۔رفع الحجب عن اسامی الکتب
۶۔الموافقۃ و المصالحۃ (فقہ شیعہ و سنی کا تقابلی مطالعہ)
۷۔کتاب معرفۃ العلماء
۸۔اسماء الرجال
۹۔سپہر امامت کے بارہ بروج
۱۰۔تصحیح الاغلاط(لغت)
۱۱۔دیوان
۱۲۔شرح مفاتیح اقفال التراویح
۱۳۔جذبات مذاق
۱۴۔دقائق المذہب



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11