Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187054
Published : 3/5/2017 13:35

سید حسن نصر اللہ کا خطاب:

مجاہدین کی قربانیاں ہی مقاومت کی طاقت کا راز ہیں:حسن نصر اللہ

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ غاصبوں کے مقابلے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں مجاہدین کے ایثار و قربانی کے بغیر ممکن نہیں تھیں،انھوں نے مزید کہا کہ مجاہدین کی قربانیوں کی برکت سے لبنان اور شام کے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا اور مضایا و الزبدانی نامی علاقوں نیز دیگرشہروں کی آزادی کے بعد وہاں بنیادی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ جرود عرسال کو چھوڑ کر جنوب کے علاقے اور شمال میں واقع البقاع تک کے علاقے، خطرات سے محفوظ ہو گئے ہیں۔

ولایت پورٹل:حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے صیہونی حکومت اور تکفیری دہشت گردوں کے مقابلے میں ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنے والوں کے دن، یوم جانباز کی مناسبت سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ہمارے مجاہدین اور اپنی جان کی بازی لگانے والے جاں نثاروں کی ایک بڑی تعداد میدان جہاد و عمل میں واپس آگئی ہے اور ان کی فداکاریوں اور قربانیوں سے لبنان کو بہت  سی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور یہ کامیابیاں سب کی نظروں کے سامنے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آپ کی قربانیاں، دفاعی طاقت میں توازن اور فوج، قوم اور حزب اللہ کا پلڑا بھاری ہونے کا باعث بنی ہیں، سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل کے مقابلے میں دی جانے والی قربانیاں، زمینوں اور قیدیوں کی آزادی کا سبب اور لبنان کے جنوبی اور مغربی علاقوں خاص طور سے انیس سو اڑتالیس سے بے پناہ مسائل و مشکلات سے دوچار علاقوں میں امن و استحکام پیدا ہونے کا سبب بنیں۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ غاصبوں کے مقابلے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں مجاہدین کے ایثار و قربانی کے بغیر ممکن نہیں تھیں،انھوں نے مزید کہا کہ مجاہدین کی قربانیوں کی برکت سے لبنان اور شام کے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا اور مضایا و الزبدانی نامی علاقوں نیز دیگرشہروں کی آزادی کے بعد وہاں بنیادی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ جرود عرسال کو چھوڑ کر جنوب کے علاقے اور شمال میں واقع البقاع تک کے علاقے، خطرات سے محفوظ ہو گئے ہیں۔
انھوں نے صیہونی حکومت کی جیلوں میں تقریبا دو ہزار فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ ہم فلسطینی قیدیوں کے جرآتمندانہ اقدام کی حمایت اور ان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی مدد کریں گے۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ قیدیوں کی بھوک ہڑتال ایک جہادی، اہم اور اپنے مطالبات منوانے کے لئے بجا اقدام ہے۔حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال، حقوق کے حصول کے لئے ایک جہادی کوشش ہے اور اس پر صیہونیوں کا ردعمل پہلے سے ہی معلوم تھا تاہم اس پر عالم عرب اور عوام کی خاموشی حیرت انگیز ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر یہ بھوک ہڑتال کہیں اور ہوتی تو پوری دنیا چیخ پڑتی اور اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی، سید حسن نصراللہ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کے سلسلے میں عرب اقوام، معاشرے، اسلامی تعاون تنظیم، ذرائع ابلاغ اور مصنفین اور قلم کاروں کا کیا موقف ہے؟۔
حزب اللہ کے سربراہ نے عراق کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ اس وقت بعض عرب چینل، عراقی فوج کے مقابلے میں داعش کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد عراق کو امریکہ کے اتحادیوں کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے یمن پر سعودیوں کی جارحیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھوک و غذائی قلت  کی بنا پر لاکھوں یمنی شہریوں کی موت کے اعتراف کے باوجود کسی میں اس سلسلے میں بات کرنے کی جرات نہیں ہے۔
سید حسن نصراللہ نے شام کے بارے میں کہا کہ الراشدین کے علاقے میں وحشیانہ قتل عام کے باوجود عالم عرب کا ضمیر بیدار نہیں ہوا اور اس نے کوئی اقدام نہیں کیا جبکہ خان شیخون کے سلسلے میں اقدام کرنے کے لئے تیار تھا کہ جس میں شامی حکومت کے ملوث ہونے کا کوئی بھی ثبوت بھی نہیں ہے اور امریکہ، خان شیخون کے حملہ آور کی مذمت کے لئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی مخالفت کر رہا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس وقت شام کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے کیونکہ شام کے عوام جو استقامت و پائداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں حکومت اور فوج کو بکھرنے نہیں دینا چاہتے اور شامی جوانوں نے یہ مرحلہ سر کر لیا جو ایک بڑی بات ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو شام، مسلح دہشت گردوں کے قبضے میں چلا جاتا۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11